• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 2:28 شام
  • Australia

ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان نے اس اقدام کو اہم سنگ میل قرار دیا ہے

پاکستان نےشارکس اور دیگر سمندری حیات کےتحفظ کے لیے پہلا نیشنل پلان آف ایکشن فار شارکس (2035-2025) متعارف کروا دیا۔

ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان نے اس اقدام کو اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ 10 سالہ منصوبہ شارکس اور ریز کی کم ہوتی تعداد کو بحال کرنے، غیر ضروری شکار اور غیرقانونی فننگ (پر کو کاٹنا) کو کم کرنے، سمندری مسکن کے تحفظ، تحقیق اور نگرانی کو بہتر بنانے اور ماہی گیری سے وابستہ ساحلی آبادیوں کے روزگار کو پائیدار بنانے میں مدد دے گا۔

ڈبیلو ڈبیلو ایف (پاکستان) کے مطابق اس اقدام کی ضرورت اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ سن 2021 کی ایک تحقیق میں پتہ چلا تھا کہ پاکستان میں شارک کی لینڈنگ میں گزشتہ پانچ دہائیوں کےدوران 85 فی صد سے زیادہ کمی آئی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان گزشتہ 10 سال سے زائد عرصے سے شارکس اور ریز کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور 2014 سے پاکستان میں شارکس کے لیے قومی ایکشن پلان کی وکالت کرتا رہا ہے۔ اس دوران حکومت، ماہی گیروں، سائنس دانوں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر تحقیق، آگاہی اور تحفظ کے اقدامات کو فروغ دیا گیا۔

ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر بائیو ڈائیورسٹی رب نواز نے کہا ہے کہ یہ قومی ایکشن پلان ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس کی اصل کامیابی اس پر موثرعملدر آمد سے ہوگی۔ مضبوط نگرانی، قوانین کا مؤثر نفاذ، خطرے سے دو چار انواع اور اہم سمندری علاقوں کا تحفظ اورماہی گیر برادریوں کی شمولیت ضروری ہے۔

ڈبیلو ڈبیلوایف پاکستان کے مطابق ماہی گیر بھی اس تحفظ کا اہم حصہ ہیں کیونکہ تربیت یافتہ ماہی گیر شارکس اور ریز سے متعلق معلومات جمع کرنے کے ساتھ ساتھ حادثاتی طور پر جال میں پھنسنے والی وہیل شارکس کو بحفاظت واپس سمندرمیں چھوڑنےمیں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے