مونیٹائزڈ گاڑی پر بلیو لائٹ، بیکن، گھومنے والی لائٹ یا فلیشر لگانے پر پابندی عائد
سیشن جج لاہور نے ججز کو ذاتی گاڑیوں پر گرین رجسٹریشن، نیلی بتی اور گاڑیوں کو سرکاری ظاہر کرنے سے روک دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق خورشید خواجا نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مونیٹائزیشن کے بعد بعض گاڑیاں سرکاری گاڑیوں کا تاثر دے رہی ہیں۔
جاری مراسلے میں حکم دیا گیا ہے کہ عدالتی افسران اپنی گاڑیوں پر گرین رجسٹریشن یا سرکاری گاڑی کی شناخت ظاہر کرنے والی پلیٹ استعمال نہیں کر سکیں گے۔ گاڑیوں پر لاہور ہائیکورٹ یا پنجاب ڈسٹرکٹ جوڈیشری کا مونوگرام، لوگو، مہر، اسٹیکر یا بیج نہیں لگایا جائے گا۔
مراسلے کے مطابق ججز اپنی گاڑیوں پر سرکاری نشان، جھنڈا یا ایسی کوئی تحریر بھی نہیں لگا سکیں گے جس سے سرکاری گاڑی کا تاثر ملے۔ مونیٹائزڈ گاڑی پر بلیو لائٹ، بیکن، گھومنے والی لائٹ یا فلیشر لگانے پر پابندی ہوگی جبکہ گاڑی کے اندر بلیو لائٹ یا ایمرجنسی لائٹ رکھنا بھی ممنوع قرار ہوگا۔
اس کے علاوہ اپنی گاڑی پر عہدہ یا جوڈیشل آفیسر کی حیثیت ظاہر کرنے والی تحریر بھی استعمال نہیں کر سکیں گے، مونیٹائزیشن کے بعد گاڑی ہر مقصد کے لیے نجی اور ذاتی گاڑی تصور ہوگی۔ مونیٹائزڈ گاڑی کی ظاہری شکل کسی بھی صورت میں سرکاری گاڑی کی نشاندہی یا تاثر نہیں دے گی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور نے ہدایت کی کہ خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ سنجیدگی سے لیا جائے گا اور عدالتی افسر کی جانب سے حکم کی خلاف ورزی کا معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو رپورٹ کیا جائے گا۔
لاہور کے تمام جوڈیشل افسران کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا حکم بھجوا دیا گیا۔
