• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 11:23 صبح
  • پاکستان

مقتولہ کے شوہر اور پڑوسن نے واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا بتایا ہے

گھگھر پھاٹک قادر نگر میں گھر کے اندر فائرنگ کے پراسرار واقعے میں ایک بچی کی ماں جاں بحق ہوگئی، پولیس کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے خودکشی کی ہے جبکہ مقتول کے شوہر اور پڑوسن کا کہنا کہ دو ڈاکو گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوئے تھے، خاتون کے شور مچانے پر فائرنگ کر کے قتل کیا اور فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیل ٹاؤن کے علاقے گھگھر پھاٹک پل کے قریب قادر نگر کچی آباد میں فائرنگ سے خاتون جاں بحق ہوگئی، جاں بحق ہونے والی خاتون کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

ترجمان کراچی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 30 سالہ بختاور عرف بکھاں زوجہ رسول بخش کے نام سے کی گئی۔

ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن انسپکٹر جاوید ابڑو کا دعویٰ ہے کہ واقعہ گھریلو رنجش کا شاخسانہ ہے، مقتولہ خاتون نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی ہے تاہم پولیس واقعے کی تحیققات کر رہی ہے۔

مقتولہ بختاور کی پڑوسن شہزادی نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتولہ کی تقریباً ڈیڑھ سال قبل شادی ہوئی تھی، مقتول کی ایک 20 دن کی بیٹی ہے جبکہ اس کا آبائی تعلق اندرون سندھ ٹنڈو محمد خان سے تھا، مقتولہ کا شوہر محنت مزدوری کرتا تھا، بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گھر کے دیگر افراد سو چکے تھے جبکہ بختاور اپنی بیٹی کو فیڈ کروا رہی تھی۔

پڑوسن نے بتایا کہ اسی دوران دو مسلح افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے، مسلح افراد کو دیکھ کر بختاور نے چیخ و پکار شروع کر دی جس سے ملزمان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے فائرنگ کر دی جس سے ایک گولی بختاور کے سر میں لگی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی اور پھر کچھ دیر بعد دم توڑ گئی، مسلح ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

مقتولہ کے شوہر نے بھی واقعہ ڈکیتی کا بتایا تاہم ایس ایچ او کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے خودکشی کی ہے۔

اسٹیل ٹاؤن کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جس علاقے میں واقعہ ہوا ہے وہ علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ہے، انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں چوری ڈکیتی سمیت تمام جرائم کی وارداتیں عام ہیں اور اس سے قبل بھی آنے والے ایس ایچ اوز نہ تو وارداتیں روک سکے اور نہ کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا ہو سکتا ہے تاہم تفتیش کے بعد حقائق سامنے آجائیں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے