• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 12:17 شام
  • Australia

چترال کے شہریوں نے سوات اور دیر کے اضلاع پر مشتمل نئے صوبے کے قیام کی حمایت کر دی

ملک کے دیگر علاقوں کی طرح چترال کے عوام بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔

ملک میں پائیدار ترقی، متوازن علاقائی خوشحالی اور موثر حکمرانی کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

انتظامی اصلاحات کے پیشِ نظر چترال کے شہریوں نے سوات اور دیر کے اضلاع پر مشتمل نئے صوبے کے قیام کی حمایت کر دی۔

نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے چترال کے شہریوں کا کہنا ہے کہ رقبے کے لحاظ سے چترال ایک وسیع ضلع ہے، دیر اور سوات کو ملا کر الگ صوبہ بنانا اچھا فیصلہ ہوگا۔ موجودہ سیٹ اَپ میں وزیرِاعلیٰ اور صوبائی حکام تک عام شہریوں کی رسائی انتہائی دشوار ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبے بننے سے عام شہری کی سرکاری حکام تک رسائی ممکن ہوگی، چھوٹا صوبہ تشکیل پانے سے نہ صرف چترالی عوام بلکہ پورے ملک پر خوشگوار اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے، نئے انتظامی فریم ورک اور چھوٹے صوبوں کا قیام قومی و مقامی مفاد میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگا۔

نئے انتظامی فریم ورک سے عوامی اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے ختم اور سروس ڈیلیوری میں بہتری آئے گی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے