• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 9:38 صبح
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

سڈنی: آسٹریلیا نے سوشل میڈیا صارفین کو یہ اختیار دینے کی تجویز دی ہے کہ وہ خود طے کریں کہ ان کی فیڈ (feed) میں کس طرح کا مواد دکھایا جائے۔

نئی مجوزہ قانون سازی کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کو ان کے ڈیفالٹ فیڈ کے بارے میں اطلاع دینا اور انتخاب کا حق دینا ہوگا۔ صارف چاہیں تو الگورتھم کی طرف سے تجویز کردہ ذاتی نوعیت کا مواد دیکھ سکتے ہیں۔

صارف یہ اختیار بھی منتخب کر سکتے ہیں کہ انھیں الگورتھم کی تجویز کردہ پوسٹس نہ دکھائی جائیں، بلکہ صرف ان لوگوں اور تخلیق کاروں کی پوسٹس نظر آئیں جنھیں وہ خود فالو کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم انتھونی البانیزی نے کہا کہ یہ ایک عملی اصلاح ہے جو صارفین کو اختیار دے گی اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو قوانین پر عمل کرنے کا پابند بنائے گی۔

میری فیڈ، میری مرضی : صارفین سوشل میڈیا اپنی مرضی سے استعمال کریں گے

یہ تجویز یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کی طرز پر ہے، جس کے تحت صارفین کو اپنی پروفائلنگ بند کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے الگورتھمز پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ الگورتھمز لوگوں کو زیادہ دیر تک سوشل میڈیا دیکھنے اور اس کا عادی ہونے کی طرف لے جاتے ہیں۔

نئی تجویز کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو یہ بھی ریکارڈ رکھنا ہوگا کہ آسٹریلوی صارفین کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے انھوں نے کیا اقدامات کیے ہیں اور یہ اقدامات مؤثر بھی ہیں یا نہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر کمپنیوں کو 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

آسٹریلیا کا انٹرنیٹ ریگولیٹر ’ای سیفٹی‘ اس قانون پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔ ای سیفٹی کو بڑی ٹیک کمپنیوں کو نقصان دہ، عریاں اور غیر قانونی مواد فوری طور پر ہٹانے کا حکم دینے کا اختیار بھی دیا جائے گا۔ تاہم، آزادیِ اظہار کے حامیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قانون سنسرشپ کا سبب بن سکتا ہے۔

البانیزی نے اس اعتراض کے جواب میں کہا کہ مقصد حکومت کو کنٹرول دینا نہیں بلکہ صارفین کو کنٹرول دینا ہے۔

حکومت قانون کا مسودہ سوشل میڈیا کمپنیوں، صنعتی اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں سے مشاورت کے لیے پیش کرے گی۔ توقع ہے کہ بل رواں سال پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے