• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 4:24 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دنیا ایک مرتبہ پھر غیر معمولی موسمی حالات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بحرالکاہل کے استوائی حصے میں بننے والا ال نینو تیزی سے طاقتور ہو رہا ہے اور عالمی موسمیاتی ادارے نے اس کے فروری 2027ء تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ظاہر کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ال نینو 2026ء کے اختتام تک انتہائی طاقتور شکل اختیار کر سکتا ہے، تاہم عالمی سطح پر موسم پر اس کے اثرات 2027 میں بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ یہ پاکستان کے لیے محض ایک موسمی خبر نہیں بلکہ بروقت ملنے والا ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ ہمارا ملک پہلے ہی شدید گرمی، پانی کی قلت، بے ترتیب مون سون، شہری سیلاب، خشک سالی، گلیشیائی خطرات اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں طاقتور ال نینو ہمارے کمزور شہری، زرعی، آبی، توانائی اور صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ال نینو کتنا طاقتور ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان اس پیشگی انتباہ سے کیا فائدہ اٹھاتا ہے۔ کیا ہمارے متعلقہ ادارے ابھی سے تیاری شروع کریں گے یا ایک مرتبہ پھر کسی موسمی سانحے کے بعد ہنگامی اجلاس، امدادی اعلانات اور ذمہ داری کے تعین کا سلسلہ شروع ہوگا؟

ال نینو کیا ہے؟ ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی کیفیت ہے جو عموماً ہر دو سے سات سال کے درمیان سامنے آتی ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے درمیانی اور مشرقی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ سمندر کی یہ غیر معمولی گرمی اوپر کی فضا اور ہواؤں کی گردش کو تبدیل کرتی ہے، جس کے اثرات بحرالکاہل سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ ال نینو اور لا نینا ایک ہی قدرتی موسمی نظام، ال نینوسدرن آسیلیشن (ENSO)، کے دو مخالف مرحلے ہیں۔ ال نینو میں بحرالکاہل کا پانی معمول سے زیادہ گرم، جبکہ لا نینا میں معمول سے ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان معمول کی کیفیت کو غیر جانب دار یا نیوٹرل مرحلہ کہا جاتا ہے۔

ال نینو عام طور پر مارچ سے جون کے درمیان بننا شروع ہوتا ہے اور نومبر سے فروری کے دوران اپنی بلند ترین سطح تک پہنچتا ہے۔ ال نینو کی یہ کیفیت عموماً 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتی ہے، تاہم بعض اوقات اس کے اثرات اس سے زیادہ عرصے تک بھی برقرار رہ سکتے ہیں لیکن ہر ال نینو کے اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس کی شدت، دورانیے، آغاز کے وقت اور بحرِ ہند سمیت دوسرے سمندری و فضائی نظاموں کے ساتھ تعلق یہ طے کرتا ہے کہ کس خطے میں خشک سالی، شدید بارش یا غیر معمولی گرمی کا خطرہ زیادہ ہوگا۔

موجودہ ال نینو غیر معمولی کیوں ہے؟ عالمی موسمیاتی ادارے کے عالمی پیش گوئی مراکز نے موجودہ ال نینو کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد ظاہر کیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ال نینو سے متعلق اس کی پیش گوئی میں اس قدر مضبوط اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ موجودہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ بحر الکاہل کی سطح اور گہرائی میں موجود غیر معمولی گرمی ہے۔ ادارے کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے اوائل میں بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سطح آب کے نیچے پانی کا درجۂ حرارت معمول سے 8 ڈگری سیلسیئس سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ سمندر کی گہرائی میں موجود گرم پانی کا یہ بہت بڑا ذخیرہ آنے والے مہینوں میں ال نینو کو مزید طاقت فراہم کرسکتا ہے۔

مئی سے جولائی تک وسطی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا اوسط درجۂ حرارت معمول سے تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیئس زیادہ رہا۔ جولائی میں یہ فرق 2 ڈگری اور بعد کی ہفتہ وار پیمائشوں میں تقریباً 2.6 ڈگری تک پہنچ گیا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ گرمی صرف سمندر کی سطح تک محدود نہیں بلکہ پانی کی گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی بنا پر ماہرین موجودہ حالات کو عارضی اتار چڑھاؤ کے بجائے ایک مضبوط اور طویل موسمیاتی کیفیت قرار دے رہے ہیں۔

عالمی حدت اور ال نینو میں فرق ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی نظام ہے، جبکہ موجودہ عالمی حدت بنیادی طور پر کوئلے، تیل اور گیس کے استعمال، جنگلات کی کٹائی اور دیگر انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کا نتیجہ ہے۔ ابھی تک یہ بات قطعی طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ موسمیاتی تبدیلی ہر ال نینو کی تعداد یا بنیادی شدت میں لازماً اضافہ کرتی ہے۔ البتہ پہلے سے گرم سمندر اور فضا ال نینو کے ساتھ پیدا ہونے والی شدید گرمی، بھاری بارش اور خشک سالی کے اثرات کو زیادہ نقصان دہ بنا سکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ال نینو قدرتی طور پر آنے والا موسمیاتی واقعہ ہے، لیکن اب یہ ایک ایسی دنیا میں رونما ہو رہا ہے جو انسانی سرگرمیوں کے باعث پہلے ہی غیر معمولی حد تک گرم ہو چکی ہے۔ اس لیے اس کے اثرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟ عالمی موسمیاتی ادارے کی سیکرٹری جنرل اور ماہرِ موسمیات سیلیسٹ ساؤلو کے مطابق موجودہ غیر معمولی ال نینو غیر معمولی تیاری اور فوری اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات صرف موسم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زراعت، پانی، صحت، توانائی، نقل و حمل، تجارت اور خوراک کی فراہمی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق موسمی پیش گوئیاں حکومتوں، امدادی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو نقصان سے پہلے تیاری کرنے کا قیمتی موقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر اس مہلت کو بروقت استعمال کیا جائے تو انسانی جانیں اور معاشی وسائل دونوں بچائے جاسکتے ہیں۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے سابق سیکرٹری جنرل اور ماہرِ موسمیات پروفیسر پیٹری تالاس بھی واضح کر چکے ہیں کہ ال نینو جب انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت کے ساتھ ملتا ہے تو عالمی درجۂ حرارت کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اس کے دور رس اثرات انسانی صحت، غذائی تحفظ، پانی کے انتظام اور قدرتی ماحول پر مرتب ہوسکتے ہیں۔موسمیاتی سائنس دان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ طاقتور ال نینو کا مطلب دنیا کے ہر خطے میں ایک جیسی آفت نہیں ہوتا۔ کسی ملک پر اس کے اثرات مقامی جغرافیے، موسم، سمندری درجہ حرارت اور ہوا کی گردش کے دوسرے نظاموں کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔

ال نینو کا معاشی نقصان ال نینو کے نقصانات صرف تباہ شدہ فصلوں، سیلاب زدہ گھروں یا خشک آبی ذخائر تک محدود نہیں رہتے۔ اس کے اثرات روزگار، تجارت، خوراک کی قیمتوں، بجلی کی پیداوار، آبی وسائل اور ملکی اقتصادی ترقی تک پھیل سکتے ہیں۔ سائنسی جریدے سائنس میں 2023ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں معاشی ماڈل کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ 1982/83 کے ال نینو کے باعث مختلف ممالک کی معاشی پیداوار اور ترقی متاثر ہونے سے عالمی معیشت کو طویل مدت میں تقریباً 4.1 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ 1997/98ء کے طاقتور ال نینو سے ہونے والا مجموعی طویل مدتی معاشی نقصان تقریباً 5.7 ٹریلین ڈالر تھا۔

تحقیق کے مصنفین کرسٹوفر کالاہان اور جسٹن مینکن کے مطابق ال نینو سے متاثر ہونے والے ممالک کی معاشی ترقی صرف واقعے کے سال میں متاثر نہیں ہوتی بلکہ اس کے منفی اثرات کئی برس تک جاری رہ سکتے ہیں۔ یہ اعداد معاشی ماڈلنگ سے حاصل کردہ اندازے ہیں، لیکن ان سے ال نینو کے ممکنہ معاشی اثرات کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسی کمزور معیشت کے لیے یہ پہلو انتہائی اہم ہے۔ اگر فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، پانی اور بجلی کی طلب بڑھتی ہے، خوراک درآمد کرنا پڑتی ہے یا سیلاب سے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا بوجھ براہِ راست قومی خزانے اور عام شہری پر پڑتا ہے۔

پاکستان پر ممکنہ اثرات یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ پاکستان پر ال نینو کے اثرات ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ مختلف موسمی عوامل کے باعث ان کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ بعض برسوں میں ال نینو کے باعث مو ن سون کی بارشوں میں کمی آ سکتی ہے، لیکن یہ کوئی مستقل اصول نہیں۔ بعض علاقوں میں مجموعی بارش کم رہنے کے باوجود محدود مدت کے دوران انتہائی شدید بارش بھی ہوسکتی ہے۔پاکستان میں ال نینو کے اثرات کا انحصار مون سون، بحرہند کے درجۂ حرارت، مغربی ہواؤں، مقامی جغرافیے اور دیگر فضائی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے ال نینو کو پورے پاکستان کے لیے کسی ایک یقینی موسمی نتیجے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔اس کے باوجود موجودہ پیش گوئی پاکستان کے لیے درج ذیل بڑے خطرات کی نشان دہی کرتی ہے۔

شدید اور طویل گرمی سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے گرم علاقوں میں شدید گرمی کے دور زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کراچی جیسے ساحلی شہر میں بلند درجہ حرارت کے ساتھ زیادہ نمی انسانی جسم کے لیے گرمی برداشت کرنا مزید مشکل بنا دیتی ہے۔گرمی کا سب سے زیادہ نقصان کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں، کسانوں، تعمیراتی کارکنوں، ٹریفک اہلکاروں، بزرگوں، بچوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیمار افراد کو پہونچتا ہے۔

گرمی کے دوران بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر اسی عرصے میں بجلی کی بندش ہو تو پنکھوں، پانی کی موٹروں اور ٹھنڈک کے دوسرے ذرائع کی عدم دستیابی شہریوں، ہسپتالوں اور چھوٹے کاروباروں کی مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ پانی کی قلت اور خشک سالی، بارشوں میں کمی یا ان کی بے ترتیبی سے آبی ذخائر، زیرزمین پانی، فصلوں اور شہری پانی کی فراہمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ بلوچستان، تھرپارکر، چولستان اور دوسرے خشک و بارانی علاقوں میں طویل خشک وقفے انسانوں کے ساتھ مویشیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ پانی کی کمی صرف پینے کے پانی کا مسئلہ نہیں۔ اس کا براہِ راست تعلق خوراک کی پیداوار، بجلی، صحت، صفائی، دیہی روزگار اور لوگوں کی نقل مکانی سے بھی ہے۔ خشک سالی کی صورت میں غریب دیہی گھرانے عموماً سب سے پہلے اپنے مویشی، آمدنی اور غذائی تحفظ کھوتے ہیں۔

زراعت اور غذائی تحفظ گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی، پھل اور سبزیوں کی پیداوار درجہ حرارت اور پانی کی دستیابی سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ فصل کے حساس مرحلے میں شدید گرمی دانے کی نشوونما اور مجموعی پیداوار کم کرسکتی ہے، جب کہ پانی کی قلت آب پاشی کے اخراجات بڑھا دیتی ہے۔اگر زرعی پیداوار متاثر ہوئی تو اس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں، دیہی روزگار اور غریب گھرانوں کی غذائی ضروریات پر دباؤ بڑھے گا۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ پہلے ہی مہنگائی اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، معمولی زرعی نقصان بھی وسیع سماجی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

کم بارش کے باوجود سیلاب کا خطرہ ماہرین کے مطابق یہ بظاہر متضاد لیکن اہم حقیقت ہے کہ کسی موسم کی مجموعی بارش معمول سے کم ہونے کے باوجود چند گھنٹوں یا دنوں میں انتہائی شدید بارش ہوسکتی ہے۔ گرم فضا زیادہ نمی اپنے اندر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب یہ نمی بارش میں تبدیل ہوتی ہے تو شہری سیلاب، پہاڑی ریلے اور نکاسی آب کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ کراچی کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے، جہاں پانی کی قلت اور شہری سیلاب ایک ہی موسمی عرصے میں سامنے آسکتے ہیں۔ شہر کی پختہ زمین، بند نالے، بے ہنگم تعمیرات اور کمزور نکاسی آب محدود وقت میں ہونے والی شدید بارش کو بھی بڑے شہری بحران میں تبدیل کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔

صحتِ عامّہ پر اثرات ال نینو کے اثرات صرف موسم، پانی اور زراعت تک محدود نہیں رہتے۔ شدید گرمی سے ہیٹ اسٹروک، جسم میں پانی کی کمی، گردوں کے مسائل اور دل و سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ خشک سالی صاف پانی اور خوراک کی دستیابی متاثر کرسکتی ہے، جبکہ شدید بارش اور سیلاب آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خشک سالی صاف پانی اور خوراک کی دستیابی متاثر کرسکتی ہے، جبکہ شدید بارش اور سیلاب آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

جنگلات اور قدرتی ماحول گرم اور خشک حالات جنگلات، چراگاہوں اور جھاڑیوں میں آگ لگنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں غیر معمولی گرمی برف اور گلیشیئر کے پگھلاؤ پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تاہم کسی ایک جنگلاتی آگ، سیلاب یا گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کے واقعے کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ ہر موسمی سانحے کے پیچھے درجۂ حرارت، بارش، مقامی جغرافیہ، زمین کے استعمال، جنگلات کی کمی، ناقص تعمیرات اور کمزور انتظامات سمیت کئی عوامل کام کرتے ہیں۔

2022 کے سیلاب سے متعلق ضروری وضاحت پاکستان میں آنے والے 2022 کے تباہ کن سیلاب کو ال نینو کی مثال کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، کیونکہ اس وقت لا نینا کی کیفیت موجود تھی۔ یہ تاریخی مثال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں سیلاب یا خشک سالی کسی ایک عالمی موسمی نظام کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ مون سون کی شدت، عالمی حدت، بحر ہند کی کیفیت، گلیشیئر کا پگھلاؤ، مقامی جغرافیہ، زمین کے استعمال میں تبدیلی، نکاسی آب کی کمزوری اور دریا کے سیلابی میدانوں میں تعمیرات بھی نقصان کی شدت طے کرتی ہیں۔

اب پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کو ال نینو سے نمٹنے کے لیے محض ایک عمومی سرکاری ہدایت نامہ جاری کرنے کے بجائے ایک مربوط قومی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔اس کے لیے محکمہ موسمیات، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، صوبائی حکومتوں، زرعی اداروں، صحت کے محکموں، شہری انتظامیہ اور آبی وسائل کے اداروں کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

اس حوالے سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھانا ضروری ہیں: قومی اور مقامی موسمی پیش گوئیوں کو صوبائی اور ضلعی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے، گرمی کی لہروں سے متعلق عملی منصوبے بڑے شہروں کے ساتھ دیہی علاقوں میں بھی نافذ کیے جائیں، اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری کی جائے، کسانوں کو بیج، فصل، آب پاشی اور بوائی کے مناسب وقت سے متعلق مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کی جائیں، خشک سالی کے خطرے سے دوچار اضلاع میں پانی، خوراک اور مویشیوں کے چارے کی مسلسل نگرانی کی جائے، پانی کے ذخائر، نہروں اور زیرزمین پانی کے استعمال کے لیے ہنگامی منصوبہ تیار کیا جائے، شہری نالوں اور نکاسی آب کے راستوں کی فوری صفائی اور نگرانی کی جائے، بجلی کی بڑھتی طلب اور ممکنہ بندش سے نمٹنے کے انتظامات کیے جائیں اور اس کے ساتھ موبائل پیغامات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کے ذریعے بروقت اور آسان فہم انتباہات جاری کیے جائیں۔ یہ منصوبہ صرف سیلاب سے نمٹنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں شدید گرمی، خشک سالی، پانی کی قلت، زرعی نقصان، بیماریوں کے پھیلاؤ، توانائی کی بڑھتی طلب اور خوراک کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

حادثے کے بعد نہیں، خطرے سے پہلے کارروائی پاکستان میں قدرتی خطرات اکثر اس وقت انسانی سانحات میں تبدیل ہوتے ہیں جب بروقت انتباہ کے باوجود تیاری نہیں کی جاتی۔ ال نینو کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی سے اس کے ممکنہ جانی، سماجی اور معاشی نقصان کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا خطرہ نہیں رہی۔ یہ ہماری زراعت، پانی، صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی موجودہ حقیقت ہے۔ طاقتور ال نینو اس بحران کو مزید نمایاں کرسکتا ہے، لیکن اصل امتحان ہمارے اداروں کی تیاری، فیصلوں کی رفتار اور عمل درآمد کی صلاحیت کا ہوگا۔

اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو حادثے کے بعد امداد فراہم کرنے والے نظام سے نکل کر خطرے سے پہلے تیاری کرنے والے ملک میں تبدیل ہونا ہوگا۔ عالمی موسمیاتی ادارے کی موجودہ پیش گوئی نے ہمیں تیاری کے لیے وقت دیا ہے۔ اب حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مہلت کو ضائع نہ کریں۔ اگر ہم نے اس انتباہ کو بھی ایک معمول کی موسمی خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا تو آنے والے مہینوں میں گرمی، خشک سالی، زرعی نقصان یا سیلاب سے ہونے والی تباہی کو صرف قدرتی آفت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس نقصان میں ہماری عدم تیاری، کمزور منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی غفلت بھی شامل ہوگی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے