• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 5:58 شام
  • پاکستان

صرف ڈیڑھ گھنٹہ سوئیں اور لکھ پتی بن جائیں! دنیا کا انوکھا مقابلہ

خاتون کی جعلی افسر بن کر سیاستدان سے شادی، گھر کا صفایا کر کے فرار

برازیلین اسٹار فٹبالر ونیشیئس جونیئر اصلی نہیں بلکہ ہم شکل یا ’’کلون‘‘ ہیں؟

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

(7 اکتوبر 2026): کسی بھی جیل میں خطرناک قیدی بھی ہوتے ہیں اسی لیے ان کی سیکیورٹی انتہائی سخت ہوتی ہے ایک جیل بلیوں کو سیکیورٹی کی ذمے داریاں دی گئی ہیں۔

جیل کا تصور آتے ہی جہاں ان میں قید خطرناک اور مختلف مجرم پیشہ کا تصور ابھرتا ہے، وہیں سخت سیکیورٹی کا منظر بھی سامنے آ جاتا ہے۔ تاہم ایک جیل ایسی بھی ہے، جس میں سیکیورٹی عملے میں بلیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ منفرد جیل بھارتی ریاست راجھستان کی اجمیر ہائی سیکیورٹی جیل ہے، جہاں دیگر سیکیورٹی عملے کے ساتھ بلیوں کو بھی سیکیورٹی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تاہم ان بلیوں کا کام مجرموں پر نظر رکھنا نہیں بلکہ وہاں موجود چوہوں پر نظر رکھ کر ان کا شکار کرنا اور جیل کو چوہوں سے پاک کرنا ہے۔

صرف یہی نہیں بلکہ ان بلیوں کی ذمہ جیل میں سانپوں کی موجودگی سے بھی سیکیورٹی گارڈز کو آگاہ کرنا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلیاں بیرک میں داخل ہونے والے ایک زہریلے کوبرا سانپ کے بارے میں سیکیورٹی عملے کو بروقت آگاہ کرنے کا کارنامہ انجام دے چکی ہیں۔

جیل کے سپرنٹنڈنٹ پارس جانگڑ نے بتایا کہ یہ بلیاں ابتدائی طور پر سال 2022 میں چوہوں کی بے پناہ یلغار کو قابو میں کرنے کے لیے لائی گئی تھیں۔

بلیوں کی بروقت چوکسی کا ایک اہم واقعہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پیش آیا، جب نالی کے راستے ایک زہریلا کوبرا سانپ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ قیدی کی بیرک میں گھس گیا۔ اس وقت قیدی گہری نیند میں تھا اور چند بلیاں وہیں قریب موجود تھیں۔

سانپ کو دیکھتے ہی بلیوں نے شور مچانا اور غیر معمولی آوازیں نکالنا شروع کر دیں، جس پر قیدی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے فوراً گارڈز کو طلب کیا، جنہوں نے موقع پر پہنچ کر سانپ کو بحفاظت پکڑ کر جنگل میں آزاد کر دیا۔

موجودہ وقت میں جیل کے احاطے میں آٹھ سے زائد بلیاں موجود ہیں، جن کے قیدیوں اور عملے نے باقاعدہ نام (جیسے ‘کالی’ اور ‘بھوری’) رکھے ہوئے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بلیاں سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ باقاعدگی سے گشت کرتی ہیں؛ جب محافظ رکتے ہیں تو وہ بھی رک جاتی ہیں اور گشت بحال ہوتے ہی آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بلیاں خطرناک قیدیوں کے ساتھ بھی گھل مل چکی ہیں اور قیدی اکثر اپنے کھانے میں سے حصہ ان کے ساتھ بانٹتے ہیں، جبکہ محافظ ان کے لیے دودھ اور روٹی کا انتظام کرتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے