• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 2:40 شام
  • پاکستان

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

ایمسٹرڈیم(7 اکتوبر 2026): نیدرلینڈز کی کابینہ ملک بھر کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں طلباء کے لیے موبائل فون کے مکمل پابندی پر غور کررہی ہے۔

نیدرلینڈز کی کابینہ نے ملک بھر کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا پر اسکول کے اوقات کے دوران (بشمول وقفے اور اسکول کے احاطے میں) موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کریں۔

این او ایس کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز دی گئی ہے کہ یکم جنوری 2027 سے طلبا اسکول کے احاطے میں سارا دن اپنے موبائل فونز دور رکھنے کے پابند ہوں گے۔

اگرچہ ڈچ کابینہ کے پاس اسکولوں میں ملک گیر موبائل پابندی عائد کرنے کا براہ راست قانونی اختیار نہیں ہے، تاہم وہ اس حوالے سے تعلیمی شعبے کو باقاعدہ سفارشات جاری کر سکتی ہے۔

یہ تجویز بچوں کو ضرورت سے زیادہ اور ممکنہ طور پر نقصان دہ آن لائن سرگرمیوں کے خطرات سے بچانے کے لیے حکومت کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسکرین کے استعمال میں کمی لانا نوجوانوں کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے جس کی بڑی وجوہات نشہ آور الگورتھمز، خود بخود چلنے والی ویڈیوز (آٹو پلے ویڈیوز) اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہیں۔

یاد رہے کہ ڈچ حکومت اس سے قبل 2024 میں بھی اسباق کے دوران موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کے لیے قومی معاہدے کر چکی ہے۔

اسکولوں میں پابندی کے علاوہ کابینہ نے بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید سخت اقدامات کا بھی مطالبہ کیا ہے، جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کے لیے عمر کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔

جہاں یورپی کمیشن اس کے لیے 13 سال کی عمر پر غور کر رہا ہے، وہیں ڈچ حکومت نے کم از کم عمر 15 سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔

علاوہ ازیں، حکومت فیملی ولاگرز اور چائلڈ انفلونسرز کے لیے بھی سخت ضابطے تیار کر رہی ہے۔ نئی مجوزہ قواعد کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کی تیار کردہ آن لائن مواد کو چائلڈ لیبر کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے اور خلاف ورزی پر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے