• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 1:09 شام
  • پاکستان

اِن سگنلز کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ تحریر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے

اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے تیار ہونے والے متن میں اب ایسے خفیہ سگنلز شامل کیے جائیں گے جن کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ تحریر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق ایسی ٹیکسٹ واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی متعارف کرا جا رہی ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے تیار کردہ متن کے الفاظ کے انتخاب میں معمولی اور بظاہر غیر محسوس تبدیلیاں کرے گی۔ یہ تبدیلیاں عام قاری کو نظر نہیں آئیں گی لیکن خودکار نظام ان خفیہ سگنلز کی نشاندہی کر سکیں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اینتھروپک نے بھی اپنے اے آئی ماڈل کلاؤڈ میں اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے پر بعض صارفین کی جانب سے اعتراض سامنے آیا جن کا کہنا تھا کہ یہ نظام قابلِ اعتماد نہیں ہوگا اور اے آئی کے کام کرنے کے طریقے میں غیر ضروری مداخلت ہے۔

اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں نے یہ اقدام یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے تحت کیا ہے، جس کے مطابق جنریٹو اے آئی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے تیار کردہ مواد کو ایسے طریقوں سے قابلِ شناخت بنانا ہوگا جنہیں خودکار نظام کے ذریعے معلوم کیا جا سکے۔

البتہ، اینتھروپک کے برعکس اوپن اے آئی فی الحال یہ واٹرمارک صرف یورپی یونین میں شامل کر رہی ہے۔

اوپن اے آئی نے اپنی ٹیکنالوجی کا نام ’ٹیکسٹ گرین‘ (textGrain) رکھا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چیٹ جی پی ٹی کے الفاظ منتخب کرنے کے عمل میں ایک نا دِکھنے والا شماریاتی سگنل شامل کرتی ہے جس کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ متن کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے