پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
رياض(6 اکتوبر 2026): سعودی عرب نے نومبر کے لیے ایشیائی خریداروں کو فراہم کیے جانے والے خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر نمایاں کمی کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عرب نے نومبر کے لیے ایشیائی خریداروں کو فراہم کیے جانے والے خام تیل کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے بعد ایشیا کے لیے سعودی خام تیل کی قیمتیں تقریباً چھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، اس کے برعکس شمال مغربی یورپ اور بحیرہ روم کے خطے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
سعودی سرکاری آئل کمپنی ‘آرامکو’ کی جانب سے جاری کردہ قیمتوں سے متعلق دستاویز کے مطابق نومبر کے لیے ایشیا میں اپنے سب سے نمایاں گریڈ ‘عرب لائٹ’ کی سرکاری فروخت قیمت عمان اور دبئی کی اوسط قیمت سے 5 ڈالر فی بیرل کم مقرر کی گئی ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 3 ڈالر فی بیرل کم ہے۔نومبر کی یہ رعایت جون 2020 کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ ہے۔
رائٹرز کے ایک سروے میں ماہرین نے نومبر کے لیے قیمت میں 5 ڈالر فی بیرل تک اضافے کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم سعودی آرامکو نے اس کے برعکس ایشیائی خریداروں کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے قیمتیں کم کر دیں۔
آرامکو نے ایشیا کے لیے بھاری اقسام کے خام تیل ‘عرب میڈیم’ اور ‘عرب ہیوی’ کی نومبر کی سرکاری فروخت قیمتوں میں بھی 5 ڈالر فی بیرل کمی کی ہے۔
دوسری جانب، عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ اور جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کا فیصلہ ہے۔
خام تیل کی سپلائی : سعودی آرامکو چیف نے دنیا کو بڑے خطرے سے آگاہ کردیا
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے 66 سینٹ (یعنی 0.65 فیصد) کمی کے بعد 101.59 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 95 سینٹ (یعنی 1.03 فیصد) کمی کے بعد 90.12 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے جی سیون ممالک نے 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل ہنگامی ذخائر سے جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، اور توانائی کی برآمدات پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے سات میں سے چار دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئیں، حالانکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خلیج میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے حملوں کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے۔
