• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 3:13 صبح
  • پاکستان

اپنی بقا کا جذبہ ہر انسان میں پایا جاتا ہے، فطری طور پر ہر انسان اپنی فلاح کا خواہش مند ہوتا ہے

اپنی بقا کا جذبہ ہر انسان میں پایا جاتا ہے، فطری طور پر ہر انسان اپنی فلاح کا خواہش مند ہوتا ہے ،اس فطری جذبے کے تحت انسان اپنے ذاتی مفاد کا رویہ اختیار کرتا ہے، اگر ذاتی مفاد کے تحفظ کا یہ رویہ اپنی فطری حدود میں رہے تو قابل اعتراض بات نہیں لیکن جب یہ رویہ اپنی فطری حدود سے نکل کر اصولوں کو نظرانداز کرکے اختیار کیا جائے تو یہ منفی رویہ بن جاتا ہے جو قابل اعتراض ہے اسے خودغرضی اور مفاد پرستی کا نام دیا جاتا ہے۔

خود غرضی خلوص کی ضد ہے جو منفی قدر کی نمائندگی کرتی ہے۔ خود غرض انسان ہر چیز کو اپنے ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھتا ہے وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس کی اولین ترجیح اپنے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔ خود غرض انسان جذبات اور احساسات سے عاری ہوتا ہے وہ ذاتی مفادات کی تکمیل کی خاطر دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا بلکہ ان کو پامال کرتا ہے وہ نہ کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ بھائی وہ اپنے مفادات کا اسیر ہوتا ہے،وہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ایسا شخص بعض اوقات خونی رشتوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتا اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ان کے حقوق بھی پامال کر سکتا ہے۔ اس کے جینے کی سطح اور حیوان کے جینے کی سطح میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ایسا شخص اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لیے چاپلوسی، خوشامدی اور بالخصوص منافقت کے رویے کو بھی اپنانے سے گریز نہیں کرتا۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے مفادات کی تکمیل کرے۔

مفاد پرستی کا رویہ نہ صرف معاشرہ بلکہ اس کی ذات پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ مفاد پرستی میں زیادہ سے زیادہ مفادات کے حصول کی خواہش کا احساس اسے ہمیشہ بے چین اور غیر مطمئن رکھتا ہے ،اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خودغرض شخص سکون کی دولت سے محروم ہو جاتا ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ ہماری بیشتر اخلاقی برائیاں خودغرضی کے بدن سے جنم لیتی ہیں جس میں لالچ، حسد، استحصال اور ناانصافی جیسے اخلاقی امراض شامل ہیں ،اس طرح خود غرض انسان خلوص، محبت، رواداری، ہمدردی وغیرہ جیسے بہترین انسانی اوصاف سے محروم ہو جاتا ہے۔

خودغرض عناصر اپنے منفی طرز عمل کے ضمن میں یہ دلیل دیتے نظر آتے ہیں کہ آج کل مطلب پرستی اور خودغرضی کا زمانہ ہے، اگر میں خود غرض ہو گیا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ عناصر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ خودغرضی کا منفی طرز عمل معاشرے پر کیا منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔خود غرضی کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشرے کی اساس فرد پر ہے جیسے فرد کی فطرت ہوگی معاشرہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ خودغرضی وہ منفی طرز عمل ہے جو معاشرے سے ایثار، محبت، خلوص اور ہمدردی کے جذبات مٹا دیتی ہے۔ معاشرہ عدم تعاون اور عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ منافقت اس کا سب سے اہم اور افسوس ناک پہلو ہے جسے معاشرے میں فروغ حاصل ہوتا ہے۔اجتماعیت کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے خودغرض کا عمل معاشرے کا وہ ناسور ہے جو اجتماعیت کے تصور کی نفی کرتا ہے۔

خود غرض انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دبے پاؤں داخل ہوتی ہے اور سماج کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ایسے معاشرے میں اخلاص و محبت خلوص اور ہمدردی کے الفاظ بے معنی بن جاتے ہیں۔ معاشرہ روحانی حوالے سے بانجھ ہو جاتا ہے۔ مفاد پرست انسان سماج سے اپنے لیے سب کچھ چاہتا ہے لیکن سماج کو کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ یہ عمل معاشرے کے لیے کسی بھی طرح سودمند نہیں ہے۔مفاد پرست مادی ترقی کو ہی زندگی کی معراج تصور کرتا ہے چاہے وہ خدائی ضابطوں انسانی رشتوں اور سماجی اقدار کی پامالی کرکے حاصل کی گئی ہو۔ آج کل رشتوں میں اخلاص اور محبت کا جو فقدان نظر آتا ہے اس کی بڑی وجہ خود غرضی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ زوال پذیر ہو رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ معاشرے میں خود غرضی کا جو رجحان فروغ پا رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں۔ آئیے …اس کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔

مادہ پرستی کے سحر میں مبتلا انسان جو دنیا پرستی کا شکار ہو جاتا ہے ،تو اس کا نفسیاتی ڈھانچہ ایسا بن جاتا ہے کہ اس کے شعور میں قدر و قیمت کا معیار صرف آسائش اور مال و دولت بن جاتا ہے، یہ سوچ خودغرضی کو فروغ دیتی ہے۔دنیا پرستی مادہ پرستانہ تصور کی عملی تعبیر اور اس کا نفسیاتی اظہار ہے اگر مادہ پرستی کو ایک نظریہ اور دنیا پرستی کو ایک طرز حیات قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ خود غرضی دنیا پرستی کے بطن سے جنم لے کر اسے ایندھن فراہم کرتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں خودغرضی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے فرد کا متوازن شخصیت ہونا ضروری ہے۔ دنیا پرستی انسان کو مسلسل تقابل میں مبتلا رکھتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا پرست انسان کی توجہ اس کی داخلی تعمیر سے ہٹ کر خارجی مظاہر کی جانب مرکوز ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں انسان انسانی اقدار کو نظرانداز کرتا ہے ۔ یہ طرز فکر انسان میں خودغرضی کو فروغ دیتا ہے۔

مادہ پرستی اور دنیا پرستی کے تصور نے دنیا میں ایک ظالمانہ استحصالی نظام کو بھی جنم دیا ہے جسے سرمایہ داری نظام کا نام دیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام بظاہر ایک معاشی نظام ہے لیکن یہ فکری ڈھانچے میں ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو لفظ ’’ترقی‘‘ کے نام پر انسان کو لامحدود خواہشات کا اسیر بنا کر اسے بے سکونی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ خودغرضی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا خاتمہ کیسے کریں؟ میری ذاتی رائے میں خود غرضی کا واحد علاج مذہب سے انسان کی وابستگی میں ہے سب سے پہلے ضرورت اور خواہش کے فرق کو سمجھیں۔ آخرت کی زندگی کا ذہن میں تصور رکھتے ہوئے صبر، شکر گزاری اور قناعت کے رویے کو اپنائیے۔ حرص، لالچ، نمود و نمائش سے گریز کرتے ہوئے میانہ روی اور سادگی کے ساتھ زندگی گزاریں۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر راضی رہیں۔ اپنے احساس کی قوت کو جگا کر اپنا محاسبہ کرتے رہیں۔ یاد رکھیں خود غرضی اور مفاد پرستی کا علاج آپ کی سوچ، رویے اور طرز زندگی اور انداز فکر میں تبدیلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے سوا اس سے بچنے کا کوئی اور راستہ نہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے