• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 1:08 صبح
  • پاکستان

29 سالہ ھمام پہلے عمان ایئر کے کیڈٹ پائلٹ پروگرام میں شامل ہوا، 2022 میں معاون پائلٹ کے طور پر پروازیں شروع کیں

اسرائیل جانے والے طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کے ملزم عمانی نژاد معاون پائلٹ ھمام الحمامی کے بارے میں تفتیش ابھی جاری ہے کہ وہ کب، کہاں اور کس ذریعے سے انتہاپسند نظریات کی طرف مائل ہوا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 29 سالہ ھمام الحمامی پہلے عمان ایئر کے کیڈٹ پائلٹ پروگرام میں شامل ہوا اور 2022 میں معاون پائلٹ کے طور پر پروازیں شروع کیں۔

تاہم 2024 میں عمانی حکام کو اس کے شدت پسند نظریات اور انتہاپسند مواد سے متعلق تحفظات پیدا ہوئے جس کے بعد اسے پرواز سے روک کر انتظامی ذمہ داری دے دی گئی۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس دوران عمانی معاون پائلٹ کو انتہاپسندی سے دور کرنے کے لیے ایک پروگرام سے بھی گزارا گیا تھا۔

یہی معاملہ موجودہ تفتیش کا سب سے اہم پہلو بن گیا ہے کہ اگر عمان میں الحمامی کو پرواز کے لیے خطرہ سمجھا گیا تھا تو وہ بعد میں متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی فلائی دبئی کے کاک پٹ تک کیسے پہنچ گیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ھمام الحمام نے عمان ایئر کے بعد مراکش کی رائل ایئر ماروک میں بھی مختصر عرصے تک تربیت حاصل کی تاہم بعد میں فلائی دبئی سے وابستہ ہوگیا تھا۔

ھمام الحمامی کے ماضی کی تحقیقات میں آسٹریلیا بھی اہم کڑی بن کر سامنے آیا ہے۔ وہ 2015 میں طالب علم کی حیثیت سے آسٹریلیا پہنچا اور میلبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی تاہم کورس مکمل کیے بغیر 2017 میں آسٹریلیا چھوڑ دیا۔

آسٹریلوی وفاقی پولیس، انٹیلی جنس ادارے اے ایس آئی او اور وکٹوریہ پولیس اس کے آسٹریلیا میں تعلقات اور روابط کی تحقیقات کررہے ہیں۔

برطانوی یونیورسٹی بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ھمام الحمامی نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے ہوا بازی کے انتظام سے متعلق کورس مکمل کیا تھا تاہم وہاں اسے پائلٹ کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ھمام الحمامی کے حذف شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی تفتیش کا حصہ بن گئے ہیں۔

سی این این کے مطابق اس کے نام سے منسوب اکاؤنٹس میں القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری اور 2009 میں افغانستان میں خودکش حملہ کرنے والے ایک شدت پسند کی تصاویر سمیت بوئنگ 737 میکس کے کاک پٹ کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

بعض پرانی پوسٹس میں خواتین کے کام کرنے اور اہلیہ کے نقاب سے متعلق انتہائی سخت خیالات بھی ظاہر ہوئے تھے۔ تاہم یہ مواد اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ وہ کسی باقاعدہ دہشت گرد تنظیم کا رکن تھا۔

اس کے شدت پسند بننے کے ممکنہ راستوں میں شام میں قیام کا دور بھی زیر تفتیش ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ھمام الحمامی نے شام میں خاصا وقت گزارا تھا اور اس عرصے کو بھی اس کی ممکنہ نظریاتی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا میں قیام اور انٹرنیٹ پر اس کی سرگرمیوں کو بھی ممکنہ عوامل سمجھا جارہا ہے۔ فی الحال کسی ایک وجہ کو اس کی انتہاپسندی کی بنیادی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تفتیش کار یہ بھی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ الحمامی نے یہ کارروائی اکیلے کی یا اسے کسی شدت پسند نیٹ ورک کی مدد یا ہدایات حاصل تھیں۔

اب تک کسی بڑے دہشت گرد گروپ یا کسی غیرملکی ریاست سے اس کے تعلق کا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا۔

ابتدائی اسرائیلی تحقیقات میں بھی اسے ممکنہ طور پر تنہا کارروائی کرنے والا شخص سمجھا جارہا ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں ھمام الحمامی نے مبینہ طور پر کاک پٹ میں موجود تیز دھار آلے سے جہاز اُڑانے والے پائلٹ پر حملہ کرکے طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اس چھینا جھپٹی میں طیارہ اچانک ہزاروں فٹ نیچے آیا اور ایسا لگا کہ وہ زمین پر نہ گر جائے تاہم پائلٹ نے شدید زخمی حالت میں پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی اور مسافروں و عملے نے مل کر الحمامی کو قابو کرلیا۔

بعد ازاں طیارے کے دیگر دو پائلٹس نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی جہاں زخمی پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی گئی اور حملہ آور معاون پائلٹ کو حراست میں لیا گیا۔

متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عمان میں خطرے کی نشاندہی کے باوجود مختلف ممالک اور فضائی کمپنیوں کے درمیان اس کی معلومات کیوں منتقل نہ ہوسکیں اور وہ دوبارہ مسافر طیارے کے کاک پٹ تک کیسے پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ فلائی دبئی میں 170 سے زائد مسافر تھے جو تقریباً اسرائیلی شہری تھے اور دبئی سے تل ابیب اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ ہائی جیکنگ کو ناکام بنانے والوں میں بھارتی پائلٹ اور اسرائیلی مسافر تھا جس نے جہاز کو گرنے سے بچایا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے