• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 8:08 شام
  • پاکستان

کئی اہم سی سی ٹی وی ریکارڈز تاحال دستیاب نہیں، کمیشن اس معاملے کا بھی جائزہ لے رہا ہے، جسٹس عمر سیال

میر رضا علی کیس کی تحقیقات کے لیے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے لاش ملنے کے مقام، مشکوک گیسٹ ہاؤس، مسجد خضراء، واٹر کارپوریشن کالونی اور اطراف کے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔

اس موقع پر میر رضا کی فیملی، وکیل جبران ناصر، کیس کے تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ و فوکل پرسن جاوید ابڑو اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔

کمیشن نے سب سے پہلے گلستان جوہر میں واقع اس گیسٹ ہاؤس کا معائنہ کیا جس پر میر رضا کے والد میر حسین نے اعتراض اٹھایا تھا۔ جسٹس عمر سیال نے گیسٹ ہاؤس کے داخلی و خارجی راستوں، بالائی حصے اور عقب میں جانے والے راستے کا جائزہ لیا جبکہ میر رضا کے والد نے گیسٹ ہاؤس کے ڈی وی آر سے متعلق بھی کمیشن کو آگاہ کیا۔

جسٹس عمر سیال گیسٹ ہاؤس کے عقبی حصے سے پیدل روانہ ہوئے اور جھاڑیوں سے گزرتے ہوئے نرسری کی جانب گئے، جہاں سے آگے بڑھ کر اس مقام کا بھی معائنہ کیا گیا جہاں 29 جولائی کو میر رضا کی لاش ملی تھی۔ جسٹس عمر سیال نے جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کے مقامات کا بھی جائزہ لیا۔

اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے نرسری کے ملازم سے فائرنگ کی آواز سننے کے بارے میں استفسار کیا۔ ملازم یاسر نے بتایا کہ اسے فائر کی آواز سنائی نہیں دی، جس پر جسٹس عمر سیال نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے کوئی گملہ بھی اٹھائے تو آپ کو پتہ چل جاتا ہے، فائر کی آواز نہیں سنی؟

وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر نصب کیمرے کی 5 گھنٹے کی سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہے۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ کے باعث کیمرے کی ریکارڈنگ 5 گھنٹے تک نہیں ہوسکی، تاہم جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق علاقے میں کوئی بجلی کا بریک ڈاؤن نہیں ہوا تھا۔

بعد ازاں جوڈیشل کمیشن نے نرسری کے قریب واٹر بورڈ کے دفتر، مسجد خضراء اور دیگر مقامات کا دورہ کیا۔ مسجد خضراء کا دروازہ پولیس نے جسٹس عمر سیال کی موجودگی میں کلہاڑی کی مدد سے تالا توڑ کر کھولا، جہاں کمیشن نے مسجد کے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

جسٹس عمر سیال نے مسجد کے موذن اور خادم سے سوال کیا کہ 28 جولائی کو مسجد کے سی سی ٹی وی کیمرے 5 گھنٹے کے لیے کیوں بند تھے۔ موذن اور خادم کی جانب سے لاعلمی کے اظہار پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ سچ سچ بتا دیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ کے نام بھی میری مشکوک افراد کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔

کمیشن نے واٹر کارپوریشن کالونی اور وہاں موجود سرکاری تنصیبات کا بھی معائنہ کیا، جبکہ جسٹس عمر سیال نے سرکاری عمارت پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

میر رضا کیس کی تحقیقات؛ حکومت سندھ نے انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع کردی

میر رضا کیس؛ قتل کی ممکنہ وجہ کرپٹو ٹریڈنگ، شہریوں کی کمیشن سے تحقیقات کی درخواست

میر رضا کیس: اہلخانہ کے سینیئر پولیس افسران سے تحریری سوالات کمیشن کو جمع

میر رضا کی فیملی نے کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے میر رضا کے قتل سے متعلق پوسٹرز لگائے تھے جو ہٹا دیے گئے، جبکہ ایک سیاسی جماعت کے پوسٹرز وہاں موجود ہیں۔

کمیشن نے نجی سوسائٹی کے سیکیورٹی گارڈ سے بھی پوسٹرز ہٹائے جانے کے بارے میں پوچھا، جس پر گارڈ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دن کے وقت ڈیوٹی پر ہوتا ہے جبکہ رات کو دوسرا گارڈ تعینات ہوتا ہے۔ جسٹس عمر سیال نے رات کے سیکیورٹی گارڈ کا نام بھی معلوم کیا۔

وکیل جبران ناصر نے مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی نشاندہی کی جبکہ میر رضا کے والد اور جبران ناصر نے کمیشن کو مشکوک گاڑیوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

دورے کے دوران تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے جسٹس عمر سیال کو تحقیقات میں پیش رفت پر بریفنگ دی، جبکہ جوڈیشل کمیشن نے شواہد کی صورتحال کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا۔

دورہ مکمل ہونے کے بعد جسٹس عمر سیال نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ انہیں کتنے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز فراہم کی گئی ہیں، مختلف نمبرز میں 33 سے 35 کیمرے سامنے آئے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں کہ کتنے کیمروں کی فوٹیجز فراہم کی گئی ہیں۔ گواہ علی شاز کو دوبارہ کمیشن کے سامنے طلب کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں، وہ بھی بہت تجربہ کار ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کیس کی تفتیش جاری ہے، تفتیشی افسر بہت قابل افسر ہیں اور امید ہے اس کا جلد نتیجہ سامنے آئے گا، کمیشن اپنی سفارشات ضرور دے گا۔

انہوں نے کہا کہ خامیوں کو کمیشن دیکھ رہا ہے، اگر ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے رہے تو یہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ واقعے کو جلد بازی میں خودکشی قرار دینے یا اس کا تاثر دینے کے پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ حسین خاندان سے جہاں ضرورت ہوگی وہاں وضاحت اور جوابدہی بھی طلب کی جائے گی، کمیشن کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی بہتر تفتیش کے لیے رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔ جائے وقوعہ کے اطراف موجود افراد اور ممکنہ گواہوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور متعلقہ افراد کو کمیشن کے سامنے طلب کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 28 جولائی کی شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک کی مبینہ 5 گھنٹے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں، کئی اہم سی سی ٹی وی ریکارڈز تاحال دستیاب نہیں، کمیشن اس معاملے کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے