• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 7:18 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

اسلام آباد(5 اکتوبر 2026): پاکستان کی معروف دستاویزی فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ نے اکیڈمی ایوارڈز (آسکرز) کی دوڑ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

یہ فلم اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری میں باضابطہ طور پر پاکستان کی نمائندگی کرے گی۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے آسکر کی اس بڑی کیٹیگری کے لیے کسی دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے۔

اس فلم کے رائٹر اور ڈائریکٹر محمد علی نقوی ہیں، جنہوں نے اس پروڈکشن میں اپنی فنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم اگست 2023ء میں خیبرپختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے آلائی میں پیش آنے والے اس انتہائی خوفناک اور اعصاب شکن واقعے پر مبنی ہے۔

جب ایک چیئر لفٹ (ڈولی) کی تاریں ٹوٹنے کی وجہ سے وہ زمین سے 600 فٹ سے زائد بلندی پر ہوا میں معلق ہو گئی تھی۔ اس خطرناک صورتحال میں 6 بچوں سمیت 8 افراد اپنی جان ہتھیلی پر رکھے گھنٹوں ڈولی میں پھنسے رہے تھے۔

فلم کی تیاری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں عینی شاہدین کی ویڈیوز، متاثرہ افراد کے چشم دید بیانات اور اصل واقعات کو انتہائی مہارت اور سینماٹک انداز میں عکس بند کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس ہولناک حادثے کے بعد پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے ایک طویل اور مشکل ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا، جس میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے علاوہ مقامی زپ لائن کے ماہرین علی سواتی اور صاحب خان کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

لگ بھگ 12 گھنٹے طویل اس کٹھن آپریشن کے بعد تمام افراد کو بحفاظت نیچے نکال لیا گیا تھا، جس کی گونج نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سنائی دی تھی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے