• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 10:46 صبح
  • پاکستان

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟

لکی مروت: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کر دیا۔

اتوار کی دوپہر خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک پہنچ گیا ہے، جہاں رات بھر قافلے نے قیام کیا، مارچ کی قیادت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔

بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اُن کی جماعت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے مگر حالیہ مذاکرات میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے جنھیں ان کی حکومت صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔

لانگ مارچ کے آغاز پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم ضلع خیبر کی جانب روانہ ہو رہے ہیں اور پیر کو خیبر میں تعداد لاکھوں تک پہنچ جائے گی۔ جب ہم صوابی پہنچیں گے تو وہاں لاکھوں لوگوں کا ایک سمندر موجود ہوگا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے سامنے 8 سوالات رکھ دیے

انھوں نے کہا ہم ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان کریں گے اور جب ہم صوابی پہنچیں گے تو یہ تحریک ملک کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہوگی اور ہر چوک سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہوگا۔ انھوں نے کہا پی ٹی آئی کے سات مطالبات ہیں، یقین دہانیوں پر عمل ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔

سہیل آفریدی نے وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کا بھی مطالبہ کر دیا ہے، انھوں نے ایکس پر لکھا بڑے سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں، وزیر اعظم حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنائی جائے۔

ادھر حکومت کی جانب سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ فائنل ہو گیا تو سہیل آفریدی متحرک ہو گئے اور انھوں نے ہی مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا۔ انھوں نے کہا اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے، ان پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا، بارہ گھنٹے کے مذاکرات میں مسودہ چار بار تبدیل ہوا، اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو وہ خود مذاکرات میں آ جاتے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے