• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 9:27 شام
  • پاکستان

دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا

کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

واشنگٹن : کینسر کی متعدد اقسام کی ابتدائی تشخیص کے لیے تیار کیے گئے گیلری (Galleri) خون کے ٹیسٹ کو امریکا میں اہم پیش رفت حاصل ہوگئی ہے اور یہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظوری کے ایک قدم قریب پہنچ گیا ہے۔

امریکی ادارے ایف ڈی اے کے مشاورتی پینل نے بھی حمایت کردی جبکہ منظوری کی صورت میں انشورنس کوریج کی راہ بھی ہموار ہونے کا امکان ہے۔

ایف ڈی اے نے گزشتہ ہفتے گریل کمپنی کے تیار کردہ گیلری ٹیسٹ کے حق میں رائے دیتے ہوئے قرار دیا تھا کہ اس ٹیسٹ کے ممکنہ فوائد اس سے وابستہ خطرات سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گیلری ان ملٹی کینسر ارلی ڈیٹیکشن ٹیسٹوں میں شامل ہے جن کا مقصد ایک ہی خون کے نمونے کے ذریعے جسم میں سرطان کی ممکنہ موجودگی کا سراغ لگانا ہے۔

کمپنی کے مطابق گیلری 50 سے زائد اقسام کے کینسر سے وابستہ حیاتیاتی سگنلز کی نشاندہی کرسکتا ہے اور خون میں ملنے والے سگنل کی بنیاد پر یہ اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے کہ سرطان ممکنہ طور پر جسم کے کس عضو یا ٹشو سے شروع ہوا ہے۔

ٹیسٹ کے اس عمل میں خون میں موجود ٹیومر سے متعلق مخصوص حیاتیاتی نشانات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ماڈلز ان سگنلز کو ایک مخصوص ’کینسر فنگر پرنٹ‘ کے طور پر جانچتے ہیں۔

تاہم گیلری کا مثبت نتیجہ کینسر کی حتمی تشخیص نہیں ہوتا، ایسے نتیجے کی صورت میں مزید تشخیصی ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں، جبکہ منفی نتیجہ بھی اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ مریض کو کینسر نہیں ہے۔

کینسر اسکریننگ کا خلا پُر ہوسکتا ہے

امریکا میں اس وقت صرف پانچ اقسام کے کینسر کے لیے معمول کی اسکریننگ کی باقاعدہ سفارشات موجود ہیں، جن میں چھاتی، سروائیکل، بڑی آنت و مقعد، پروسٹیٹ اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔

ان میں سے پروسٹیٹ کینسر واحد قسم ہے جس کی اسکریننگ میں خون کا ٹیسٹ استعمال ہوتا ہے، جبکہ دیگر سرطانوں کے لیے میموگرام، پیپ یا ایچ پی وی ٹیسٹ، اسٹول ٹیسٹ یا کولونوسکوپی اور کم خوراک والی سی ٹی اسکیننگ جیسے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

کیا خون کا ٹیسٹ کینسر سے اموات کم کرسکتا ہے؟

اگرچہ ملٹی کینسر ٹیسٹوں کو کینسر کی جلد تشخیص میں ممکنہ اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے، لیکن طبی ماہرین کے درمیان اب بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا ایسے ٹیسٹ واقعی مریضوں کے نتائج بہتر بنانے اور کینسر سے ہونے والی اموات کم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

برطانیہ میں 50 سے 77 سال عمر کے ایسے افراد پر تین سالہ تحقیق کی گئی جن میں کینسر کی علامات موجود نہیں تھیں۔

گریل کے مطابق ابتدائی تجزیے میں گیلری استعمال کرنے سے معمول کے طریقہ علاج کے مقابلے میں مجموعی طور پر ابتدائی مرحلے کے کینسر کی تشخیص میں نمایاں اضافہ یا آخری مرحلے کے کینسر کی تشخیص میں مجموعی کمی ثابت نہیں ہوئی۔

تاہم مئی میں پیش کیے گئے مکمل نتائج میں بتایا گیا کہ اسکریننگ کے تیسرے مرحلے تک 12 مہلک اقسام کے کینسر میں اسٹیج فور کی تشخیص میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی۔

یوں گیلری کی ممکنہ ایف ڈی اے منظوری کینسر کی اسکریننگ کے شعبے میں ایک اہم ریگولیٹری پیش رفت تو ہوگی، لیکن اسے کینسر کی حتمی تشخیص یا موجودہ اسکریننگ طریقوں کا فوری متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ خون کے ذریعے کینسر کا سراغ لگانے سے کیا واقعی مرض پہلے پکڑ کر مریضوں کی زندگی بہتر اور طویل کی جاسکتی ہے؟ اس کا حتمی جواب مزید طویل مدتی شواہد سے ہی ملے گا۔

خون ٹیسٹ کے نئے طریقے سے کینسر کی تشخیص چند گھنٹوں میں ممکن

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے