• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 2:14 صبح
  • پاکستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیوں کے اہم عہدیداران کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی اس کی رفتار، حفاظتی اقدامات اور ممکنہ خطرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین، ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور اینتھروپک کے شریک بانی ڈاریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی، ان شخصیات کا کہنا ہے کہ اب اے آئی کی رفتار کو کم کرتے ہوئے اس ریس کو ختم کرنا ہوگا۔

تاہم ان شخصیات کے مؤقف کو ایک ہی نوعیت کی مکمل مشترکہ وارننگ قرار دینے سے پہلے ان کے اصل بیانات اور سیاق و سباق کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

ملائیکہ اسحاق کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں یہ ڈر اس وقت پیدا ہوا جب 27 سالہ محقق جیکب کاکسن نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اینتھروپک سے استعفیٰ دیا۔

بعد ازاں ایک خصوصی انٹرویو میں جیکب کاکسن نے اپنے استعفے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ اے آئی کمپنیاں ایسی سپر انٹیلیجنس بنا رہے ہیں جو ایک دہائی کے ختم ہونے تک پوری انسانیت کا خاتمہ کرسکتی ہے۔

اس انکشاف سے متعلق جب اینتھروپک کے سیفٹی ہیڈ سے اس بابت پوچھا گیا تو اس نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہاں اس بات کا امکان فی الحال دس فیصد سے بھی زائد ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اے آئی ماڈلز اب اتنے ذہین اور اسمارٹ ہوگئے ہیں کہ جب ان کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کا ٹیسٹ لیا جارہا ہے تو وہ جان بوجھ کر اپنے رویے کو تبدیل کردیتے ہیں۔

علم نفسیات میں اسے لاس آف کنٹرول کہتے ہیں جہاں آپ ایسی چیز بنا رہے ہوتے ہیں جو آپ سے بھی چالاکی کررہی ہوتی ہے۔ لہٰذا جب اسے بنانے والے ہی اس کشمکش میں مبتلا ہوں تو سمجھ جانا چاہیے کہ کھیل اب ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

اے آئی اب ایک ایسی ٹرین بن چکی ہے جس کے ڈرائیور اب چلا چلا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ گاڑی کو روکو کیونکہ آگے ایک ایسی آگ ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث کمپنیوں پر یہ دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ نئی صلاحیتیں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ حفاظتی نظام، نگرانی، ٹیسٹنگ اور ذمہ دارانہ استعمال کے طریقہ کار کو بھی مضبوط بنائیں۔

لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب حفاظتی نقطہ نظر کے تحت کیا جارہا ہے اور اسے بنانے خود اس سے ڈر رہے ہیں؟

ملائیکہ اسحاق کے مطابق بحیثیت صحافی ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اے آئی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہیے۔

اس کیلیے ہمیں یہ کرنا پڑے گا کہ سب سے پہلے اے آئی پر انحصار کو محدود کریں اپنی تنقیدی سوچ کو زندہ و برقرار رکھیں اور تخلیقی و فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کریں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے