• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 3:03 صبح
  • پاکستان

جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے عوام کا بنیادی مسئلہ اٹھایا

جماعت اسلامی نے پیٹرول پر عائد کی گئی لیوی کے خاتمے کے لیے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج وزیر اعظم شہباز شریف کی وطن واپسی تک مؤخر کردیا۔ اسلام آباد کی حکومت کو مختلف نوعیت کے کئی احتجاجی دھرنوں کا سامنا تھا۔

جماعت اسلامی کے اس فیصلے سے حکومت کو سانس لینے کا موقع مل گیا، اگرچہ حافظ نعیم الرحمن کے یہ عزائم ہیں کہ اگر حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نہیں کی تو جماعت اسلامی والے اکتوبر میں پھر اسلام آباد کا رخ کرتے ہوئے وہاں پہنچ کر دھرنا دیں گے مگر جماعت اسلامی کے ہمدردوں کو بھی اپنے امیر کی اس بات پر یقین نہیں ہے۔

حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینرز لگا کر پی ٹی آئی کے مارچ سے محفوظ کرلیا تھا ۔ ادھر یہ سوال بھی ہے کہ نیویارک سے وزیرا عظم کے ایک ٹیلی فون پر جماعت اسلامی کی قیادت کی جانب سے دھرنا موخر کرنا کیسے ممکن ہوا؟ جماعت اسلامی نے ایک ماہ قبل اپنی احتجاجی مہم شروع کی تھی، اس دوران پیٹرول کی قیمتوں میں 50 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اﷲ سے طویل مذاکرات کیے۔

جماعت اسلامی کے ذرائع کہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کے حوالے حکومتی وزراء کسی قسم کی یقین دہانی کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس دوران پیٹرولیم کے وزیر مملکت نے تو یہ اعلان تک کردیا تھا کہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ پیٹرول فی لیٹر 1000 روپے تک پہنچ جائے مگر وزیر اعظم کی ٹیلی فون پر کی گئی گفتگو میں ایسی کیا بات تھی کہ جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ ملتان سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

جماعت اسلامی کے امیر کے سخت موقف مگر ایک اور رہنما لیاقت بلوچ کے نرم بیانات سے کچھ مبصرین یہ اندازہ لگارہے تھے کہ جماعت اسلامی کا مارچ اسلام آباد تک نہیں پہنچ پائے گا۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کے دور میں جماعت نے عوامی مسائل پر رائے عامہ بیدار کرنے کی روایت شروع ہوئی تھی۔ جب حافظ نعیم الرحمن کراچی کے امیر بنے تو انھوں نے عوامی مسائل پر جدوجہد کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ جب کورونا کی وباء پھیلی تو حافظ نعیم نے ہندو اور مسیحی برادری کو اپنی امدادی سرگرمیوں میں شامل کیا مگر شاید یہ صرف کراچی کی حد تک تھا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں بجلی کے ایشو پر احتجاجی مہم شروع کی ۔ بجلی ہر شہری کا مسئلہ ہے، یوں یہ مہم کئی مہینوں تک جاری رہی۔ یوں حافظ نعیم کی کراچی میں مقبولیت بڑھ گئی۔ جماعت اسلامی نے 2024میں بجلی کے نرخوں میں کئی گنا اضافہ اور Independent Power Producers (IPPs) کی اجارہ داری کے خلاف تحریک شروع کی۔ جماعت اسلامی نے کراچی سمیت مختلف شہروں میں دھرنے دیے، پھر دھرنا اسلام آباد میں ہوا جو 2 مہینے تک جاری رہا، یوں جماعت اسلامی کی قیادت اور وزرائے کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اہم بات یہ تھی کہ محکمہ بجلی کے وزیر اویس لغاری مذاکراتی ٹیم میں شامل ہی نہیں تھے۔

بہرحال وزیر اعظم شہباز شریف نے مداخلت کی اور بجلی کے نرخوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا گیا تاہم کچھ عرصے بعد بجلی پھر مہنگی ہوگئی۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے پیٹرول پر لیوی کے خاتمہ کے لیے یقینا طویل بحث و مباحثہ کیا ہوگا ۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے تاجروں سے اس تحریک میں شامل ہونے کے لیے رابطے کیے تھے مگر سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونینوں کو متحرک کرنے کے لیے شاید کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی ساری سرگرمیاں کراچی تک محدود تھیں۔ جماعت اسلامی نے کراچی میں جب دھرنا دیا تو انتظامیہ نے ریڈ زون کے بارے میں اپنے اپنے SOPs نرم کردیے۔

عمومی طور پر اگر کوئی حکومت کراچی پریس کلب کے سامنے سڑک پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی عمارت کے سامنے پیٹرول پمپ کے قریب پہنچتی ہے تو پولیس حرکت میں آجاتی ہے۔ پولیس والے کبھی مظاہرین کو قائل کرتے ہیں کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہ ہوں تو بعض اوقات پولیس فوراً لاٹھی چارج شروع کردیتی ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈے پانی کی بوچھاڑ بھی ہوتی ہے اور پھر آنسو گیس بھی استعمال کردی جاتی ہے مگر اس دفعہ گورنر ہاؤس سے متصل سڑک پر جماعت اسلامی نے جلسہ کیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو شامیانے، قناعتیں، کرسیاں اور ہیوی پبلک ایڈریس سسٹم لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ اتنے منظم انتظام کے باوجود جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حامیوں کی خاصی تعداد اس دھرنا میں شریک نہیں ہوئی ۔

ایک صحافی کا کہنا ہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے حلف یافتہ اراکین کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہے مگر شرکاء کی تعداد اس لحاظ سے کم تھی۔ ایک صحافی نے اپنے تجربے کے لیے پنڈال میں رکھی ہوئی کرسیوں کو شمار کیا تو یہ تعداد 500 کے قریب تھی۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب امیر جماعت حافظ نعیم تقریر کرنے آتے تھے تو شرکاء کی تعداد بڑھ جاتی تھی۔ پھر کراچی سے ٹرین مارچ روانہ ہوا تو جماعت اسلامی کے کارکنوں کی بہت کم تعداد ٹرین میں سوار ہوئی۔ ملتان میں ایک صحافی کا کہنا ہے کہ اس ریل گاڑی میں دھرنا میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد 600 کے قریب تھی اور ملتان پہنچنے والے بیشتر شرکاء کا تعلق کراچی سے تھا۔ جماعت کے ایک ہمدرد صحافی نے کچھ عرصہ قبل پریس کلب میں کہا تھا کہ جماعت اسلامی کی قیادت ریاست سے ٹکرانے پر یقین نہیں رکھتی ہے۔

بقول ان کے حافظ نعیم کا یہ موقف ہے کہ اس صورتحال میں ہماری تنظیم مشکلات کا شکار ہوجائے گی اور جو کارکن جیلوں میں جائیں گے ان کی ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ ان کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کی نگہداشت بہت مشکل کام ہے، بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے عوام کا بنیادی مسئلہ اٹھایا مگر عوام متحرک نہ ہوسکے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام کو متحرک کرنا ایجنڈا کا حصہ نہیں تھا، یہ ایک بے رحم تبصرہ ہے۔

دراصل جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار سے سیاست دانوں کے خلاف جو نفرت کی مہم شروع ہوئی اور جماعت اسلامی سمیت دائیں بازو کی سیاسی قیادت خود اس مہم کا حصہ رہی ہے۔ طلبہ یونین کا خاتمہ، ٹریڈ یونین پر پابندیوں اور بائیں بازو کی تحریک کے کمزور ہونے سے سیاسی کلچر کو سخت دھچکا لگا ہے۔ عوام احتجاجی جدوجہد سے بہت دور ہوگئے ہیں۔ کچھ لوگوں کا یہ مفروضہ ہے کہ جماعت اسلامی کی شوریٰ اس معاملے میں سخت احتساب کرے گی مگر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہوگا۔ بہرحال ایک عوامی مسئلے پر احتجاج کا موخر ہونا ایک المیہ ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے