• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 9:09 شام
  • پاکستان

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

اسپین کا سیوٹا (Ceuta) میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے سخت تر قوانین متعارف کرانے کا منصوبہ سامنا آگیا۔

خبر ایجسنی رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے ایک مسودہ فرمان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپین ان تارکینِ وطن کے لیے پناہ کے حصول کے قوانین کو سخت کرنے اور ہجرت سے متعلق معیاری طریقہ کار کو نظر انداز کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو جولائی میں بڑے پیمانے پر شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے علاقے ‘سیوٹا’ (Ceuta) میں داخل ہوئے تھے۔

اس اقدام پر قانونی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس فرمان کا مقصد اس چھوٹے سے علاقے میں موجود 10 ہزار سے زائد تارکینِ وطن کی درخواستوں اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

یہ اقدام اسپین کی بائیں بازو کی، تارکینِ وطن کی حامی حکومت—جو کثیر الجہتی قوانین اور اداروں کی پرزور حامی رہی ہے—کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرے گا، کیونکہ وہ سرحد پر پیدا ہونے والے بحران کے سیاسی اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے