• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 6:48 صبح
  • پاکستان

تحفظات دور کرنے کے لیے پاکستان کی مزید تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی حسابات میں 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے تاکہ عالمی مالیاتی ادارے کے تحفظات دور کیے جاسکیں۔

دوسری جانب زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا اور گزشتہ مالی سال کے دوران پنجاب اور سندھ کی مجموعی وصولیاں محض 5 ارب روپے سے کچھ زیادہ رہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے دورہ پاکستان پر آئے ہوئے مشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ حسابات میں بڑے پیمانے پر شماریاتی فرق، وفاقی بجٹ میں بھاری بلاک ایلوکیشنز، زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں اور وفاقی محصولات کے اہداف سے متعلق اجلاس منعقد کیے۔

حکومتی حکام کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 15 ہزار 263 ارب روپے کے سالانہ ٹیکس ہدف کا حصول مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستانی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات سے مشروط کردیا۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ سے مالی سال 2025-26کے دوران وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کے حسابات میں سامنے آنے والے 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق پر بریفنگ لی۔

اس مجموعی رقم میں سے 448 ارب روپے کا فرق وفاقی حکومت کے حسابات میں پایا گیا تاہم آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ یہ فرق زیادہ تر صوبائی حکومتوں کی جانب سے ٹریڑری پیپرز میں سرمایہ کاری، جون کے اختتام سے قبل رقوم کے انخلا اور جولائی یا اس کے بعد حقیقی اخراجات کے اندراج میں عدم مطابقت کے باعث پیدا ہوا۔

پنجاب حکومت کے حسابات میں 266 ارب روپے کا شماریاتی فرق سامنے آیا۔ محکمہ خزانہ پنجاب کے ایک عہدیدار کے مطابق اس کی بنیادی وجہ کمرشل اکاؤنٹس کے معاملات اور سال بھر کے دوران ان اکاؤنٹس میں رقوم کی آمد اور اخراج کے درمیان فرق ہے۔

صوبائی حکومت کے مطابق وفاق اور صوبے کے حسابات مرتب کرنے کے طریقہ کار میں فرق بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں جون تک تاخیر کے باعث بڑی رقوم غیر استعمال شدہ رہ جاتی ہیں۔

ان رقوم کو استعمال کرنے کے لیے جون کے اختتام سے قبل چیک جاری کردیے جاتے ہیں، تاہم اکاؤنٹ ون سے حقیقی ادائیگیاں 30 جون کے بعد ہوتی ہیں۔وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مشن کے اطمینان کے لیے مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

حکام کے مطابق اس شماریاتی فرق سے حکومت کے ظاہر کردہ بنیادی بجٹ سرپلس، جو مجموعی قومی پیداوار کے 2.9 فیصد کے مساوی ہے، پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں سے زرعی انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے کے بعد محصولات کی وصولیوں سے متعلق بھی تفصیلات حاصل کیں۔

زرعی انکم ٹیکس کی 45 فیصد شرح کاروباری آمدن پر عائد ٹیکس کی شرح کے مساوی ہے۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی انکم ٹیکس کی وصولیاں انتہائی کم رہیں، جبکہ رواں مالی سال میں بھی پنجاب اور سندھ کی جانب سے اپنے اہداف حاصل نہ کیے جانے کا خدشہ ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاری

آئی ایم ایف کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں سندھ حکومت نے زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 2 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم صرف ایک ارب 10 کروڑ روپے وصول کیے جاسکے۔

پنجاب حکومت کے بجٹ دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 10 ارب 50 کروڑ روپے تھا، لیکن حقیقی وصولیاں صرف 4 ارب روپے رہیں۔

رواں مالی سال کے لیے پنجاب نے زرعی انکم ٹیکس کی وصولیوں کا ہدف 12 ارب 50 کروڑ روپے مقرر کیا ہے۔ایف بی آر نے ٹیکس سال 2025 کے دوران اپنے گوشواروں میں زرعی آمدن ظاہر کرنے والے 44 ہزار 350 افراد کا ڈیٹا سندھ حکومت کو فراہم کردیا ہے۔

تاہم صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایف بی آر اور سندھ ریونیو بورڈ کے درمیان معلومات کے فوری تبادلے کے لیے ریئل ٹائم رابطہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔سندھ حکومت پہلے ہی زرعی انکم ٹیکس کے انتظامی امور بورڈ آف ریونیو سے سندھ ریونیو بورڈ کو منتقل کرچکی ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کی ڈیجیٹل رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اب تک 3 ہزار 650 رجسٹریشنز اور ایک ہزار 912 ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جاچکے ہیں۔

ایف بی آر نے سالانہ ٹیکس ہدف کا حصول مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے مشروط کردیا،آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے گزشتہ مالی سال کے ٹیکس ہدف میں بڑے پیمانے پر کمی اور رواں مالی سال کے دوران محصولات کی وصولیوں کے امکانات سے متعلق بھی بریفنگ لی۔

آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ایف بی آر ڈیجیٹل انوائسنگ اور پیداواری لائنوں کی نگرانی سمیت کارکردگی کے تمام اہم اشاریوں کے اہداف حاصل کرلے گا۔ اس کے علاوہ پہلی سہ ماہی کے لیے مقرر کردہ 7 ہزار ارب روپے کا ہدف بھی حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

تاہم ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران 15 ہزار 263 ارب روپے کے مجموعی ٹیکس ہدف کے حصول کی قطعی یقین دہانی نہیں کرائی۔ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ سالانہ ہدف کا حصول اس بات پر منحصر ہوگا کہ خطے میں سلامتی کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے حالات، آئندہ کس نوعیت اختیار کرتے ہیں اور ان کے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین باقاعدہ مذاکرات کے پہلے روز حکام نے مالی اور انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے حکام نے مشن سے ملاقاتیں کیں، ایف بی آر کے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے پالیسی ونگز نے کارکردگی اور دیگر امور پر بریفنگ دی۔

ذرائع کے مطابق مشن کو سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق قانون سازی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کہ سول سرونٹس ایکٹ میں نئی دفعہ 15اے شامل کی ہے جس سے حکومت سرکاری ملازمین کا مالی طرز عمل منظم اور نگرانی کر سکے گی،گریڈ 17سے22 تک کے افسران اثاثے ظاہر کرنے کے پابند اور اثاثوں کی تفصیلات ویب سائٹ پر دستیاب ہوں گی

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے