• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 6:18 شام
  • پاکستان

کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک روز میں لی گئی تھی، اسی طرح توسیع کی منظوری بھی دی جا سکتی تھی، وکیل اہلخانہ

میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اب تک کمیشن میں سامنے آنے والی باتوں میں اہلخانہ نے پولیس پر کوئی بہتان نہیں لگایا، قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے، پورے کراچی میں سب سے اچھا افسر ڈاکٹر اسامہ لگا رہا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ آج کمیشن میں کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل کے افسر کاشف کا بیان ہونا تھا جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کو سوالنامہ بھیجا جانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2 ستمبر کو کمیشن نے چیف جسٹس کو کمیشن کی مدت میں توسیع کی درخواست سے آگاہ کیا تھا، تفتیش میں سامنے نہ آنے والے کئی نئے ناموں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے توسیع کی سمری منظور کرلی ہے، تاہم کابینہ کا اجلاس یکم اکتوبر کو ہوگا جس میں توسیع کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک روز میں لی گئی تھی، اسی طرح توسیع کی منظوری بھی دی جا سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران سے متعلق سوالات کے جوابات طلب کیے جائیں گے، جو بھی نامکمل جواب آئے گا اس پر بھی سوال اٹھیں گے۔ صوبائی وزیر داخلہ مختصر نوٹس پر کمیشن میں آسکتے ہیں اور معذرت کر سکتے ہیں تو اعلیٰ افسران کیوں پیش نہیں ہو سکتے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ کمیشن نے بھی شفافیت پر زور دیا ہے، بہتر یہی ہے کہ متعلقہ افسران کمیشن کے سامنے پیش ہوں۔ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کمیشن میں پیش ہو چکے ہیں، آج شام 4 بجے تک سوالنامہ کمیشن میں جمع کرا دیں گے اور سوالات میڈیا کے سامنے بھی رکھے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قاتل زندہ ہیں، سپر میڈیکل بورڈ بنا کر ڈاکٹر سمیہ سمیت تمام ڈاکٹرز کے بیانات کا جائزہ لیا جائے، 5 اگست کو ڈاکٹر اسامہ کا بیان بھی ریکارڈ پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کا بیان آج درست کیوں لگ رہا ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ جہاں سے میر رضا کی لاش ملی وہاں 9 گلیاں ہیں جبکہ سمیع اللہ سومرو کے بیان کے مطابق صرف ایک گلی ہے، سوال یہ ہے کہ کتنے کیمروں کی فوٹیج محفوظ کی گئی اور کتنی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی، پوری انویسٹی گیشن ایک بند گلی میں ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس چیف نے خاندان سے ملاقات میں مشورے دیے کہ کس کو وکیل کریں اور کس کو نہ کریں، سوال یہ ہے کہ پولیس چیف کی حیثیت سے انہیں اس معاملے میں کیا دلچسپی تھی۔

جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ڈاکٹر اسامہ کو بلانے کی خبر سامنے آتی ہے لیکن علی شاذ سے متعلق کوئی خبر سامنے نہیں آتی۔ علی شاذ سے پوچھا گیا تھا کہ ایک وائس نوٹ اے ایس پی ندا کو موبائل فون کے ذریعے بھیجا جاسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ علی شاذ کے بھائی اے ایس پی شاہ زیب 4 اگست کو کراچی میں موجود تھے، سوال یہ ہے کہ علی شاذ کے گلستان جوہر کے گھر کا معائنہ ہوا، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی یا نہیں، اس معاملے کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔ 24 ستمبر کو کمیشن کو لکھ دیا تھا کہ اگر سپر میڈیکل بورڈ بنانا ہے تو پھر کمیشن کیوں بنایا گیا ہے، ٹی او آرز دیے گئے ہیں تو موت کی وجوہات بھی کمیشن کو طے کرنے دی جائیں اور اگر کسی نے حقائق چھپائے ہیں تو انہیں سامنے آنے دیا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپر میڈیکل بورڈ کسی کی تسلی کے لیے بنایا جا رہا ہے، اب معلوم نہیں دوبارہ قبر کشائی ہوگی یا میڈیکل بورڈ سے تحقیقات کرائی جائیں گی۔ اگر ڈاکٹر سمیہ پولیس سے تعاون نہیں کر رہیں تو کیا میڈیکل بورڈ کے دیگر ڈاکٹرز بھی پولیس سے تعاون نہیں کر رہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ پورے کراچی میں سب سے اچھا افسر ڈاکٹر اسامہ کام کر رہا ہے، جس کا اظہار ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر افسران نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر آزاد خان نے یہ کیوں کہا تھا کہ کیس حل کرلیا گیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے