• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 12:48 شام
  • پاکستان

دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

بھارتی وزیر نے سوالات کرنے پر نوجوان کو سرِ عام تھپڑ جڑ دیا، ویڈیو وائرل

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

اسلام آباد : وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر عدم اعتماد کی تلوار کے حوالے سے شیرافضل مروت نے اے آر وائی نیوز کی خبر کی تصدیق کردی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے اے آر وائی نیوز کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق پیغام کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد مارچ شایدسہیل آفریدی کی صلاحیت سےزیادہ ہے، سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ سے اسٹیپ ڈاؤن کرنا چاہیے۔

رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے پیغامات کی بشریٰ بی بی کی فیملی اور نورین نیازی نے بھی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے نورین نیازی سے سہیل آفریدی کے معاملے پر مزید گفتگو کی، جبکہ اس موقع پر بشریٰ بی بی بھی موجود تھیں، بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی، سلمان اکرم اور دو دیگر افراد پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

شیر افضل نے مزید کہا کہ نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو ناکام بنانے کے لیے پریشر گروپ بنا رکھا ہے اور تقریباً 35 ارکان اسمبلی بغاوت پر اترے ہوئے ہیں، جس پر بانی پی ٹی آئی نے پوچھا کہ 35 ایم پی ایز کا مطالبہ کیا ہے، جس پر نورین نیازی نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کچھ نہیں کر پا رہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ایم پی ایز کے مؤقف کو درست قرار دیا اور کہا سہیل آفریدی کی حکومت ٹھہرنےوالی نہیں۔

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اگر سہیل آفریدی مارچ نہ کرسکے تو بھی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی معافی نہیں ہے۔

یاد رہے اے آر وائی نیوز نے 27 ستمبر کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسلام آباد مارچ نہ لانے کی صورت میں سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا پیغام دیا گیا تھا، جبکہ تقریباً 35 ایم پی ایز کی مخالفت کا بھی دعویٰ سامنے آیا تھا۔

تاہم دوسری جانب بیرسٹر گوہر اور عمران خان کے اہلخانہ نے سہیل آفریدی کو ہٹانے سے متعلق دعوؤں اور نورین نیازی سے منسوب گفتگو کی تردید کی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے