• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 2:59 صبح
  • پاکستان

بھارت اسرائیل تزویراتی اتحاد پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے

کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے قریب جمعہ کی نماز کے دوران مسجد کے باہر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، بلوچستان میں ریاست مخالف مسلح عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے مسئلے پر پاکستان اور کابل کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

کوہاٹ میں بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد شدید دھماکہ ہوا اور دہشت گرد پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئے۔ مسجد کا بیرونی حصہ متاثر ہوا، دیوار گر گئی اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ حملے کے دوران فائرنگ اور مزید خودکش دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 21 افراد، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل تھے، کی شہادت اور 103 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق سات مسلح دہشت گرد کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، جن کا پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے بھرپور مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔ یہ حملہ اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا۔ دہشت گردوں نے بیک وقت مسجد، پولیس لائنز، نمازیوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کو نشانہ بنایا۔ گویا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ ریاستی رٹ، عوامی اعتماد اور امن کے احساس کو ایک ہی وار میں مجروح کرنا تھا۔

پاکستان گزشتہ کئی برس سے عالمی برادری کو مسلسل آگاہ کر رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان، جسے پاکستان میں فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔

اب یہ معاملہ محض پاکستانی مؤقف تک محدود نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی تازہ نگرانی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں TTP کو افغان حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور حمایت حاصل ہوئی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے ایک اور فورم پر پاکستان نے واضح کیا کہ افغانستان میں TTP اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے بارہا کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ مگر اگر مذاکرات، رابطوں اور ثالثی کے باوجود پاکستان پر حملے جاری رہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کب تک صرف احتجاج کرتا رہے؟

افغانستان سے دہشت گردی کا مسئلہ اب براہ راست پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ افغان حکومت پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، لیکن زمینی صورت حال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی ملک کی سرزمین سے ایک دہشت گرد تنظیم مسلسل پڑوسی ملک کی پولیس، فوج، شہریوں اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنائے تو معاملہ محض دوطرفہ اختلافات کا نہیں رہتا۔ یہ براہ راست قومی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے اقوام متحدہ میں بھی اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ جون 2026 میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی نمائندے نے کہا کہ افغانستان میں TTP، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف سرحد پار حملے کیے جا رہے ہیں۔ ستمبر 2026 کے تازہ اجلاس میں بھی پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ لہٰذا کوہاٹ کے واقعے کو صرف مقامی دہشت گردی قرار دے کر آگے بڑھ جانا پاکستان کے قومی مفاد میں نہیں۔

بلوچستان کا محاذ بھی اسی وقت کیوں متحرک ہے؟

کوہاٹ سانحے کے ساتھ ہی بلوچستان میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری تھیں۔ 18 ستمبر کو سرکاری ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے فتح علی میں پانچ اور ضلع کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں دو دہشت گرد ہلاک کیے گئے جبکہ اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ بعد ازاں بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے خلاف مزید کارروائیوں میں 11 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

یہ بظاہر دو مختلف جغرافیائی محاذ ہیں لیکن ان کے منفی اثرات مسلئے کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک طرف خیبر پختونخوا میں افغانستان سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا چیلنج ہے، دوسری طرف بلوچستان میں ریاست مخالف مسلح تنظیموں کا مسئلہ۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ بلوچستان میں بعض دہشت گرد تنظیموں کو بیرونی سرپرستی، مالی معاونت اور سہولت کاری حاصل ہے اور اس حوالے سے بھارت پر الزامات عائد کرتا ہے۔ بھارت ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے اس خطرے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

بھارت اور اسرائیل: ایک کھلا تزویراتی اتحاد

یہاں بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو بھی علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ فروری 2026 میں بھارت اور اسرائیل نے اپنے تعلقات کو باقاعدہ طور پر خصوصی تزویراتی شراکت داری کی سطح تک بلند کیا۔ دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، سائبر سلامتی، مصنوعی ذہانت، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، خلائی شعبے اور دیگر اسٹریٹجک میدانوں میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا۔ یہ کوئی خفیہ تعلق نہیں۔ خود دونوں حکومتیں اسے کھلے عام تزویراتی شراکت داری قرار دے رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے سوال یہ نہیں کہ بھارت اسرائیل سے تعاون کیوں کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے دفاعی اور تکنیکی تعاون سے بھارت کی مجموعی صلاحیتیں کس حد تک بڑھ رہی ہیں اور پاکستان کے سلامتی کے ماحول پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ جب افغانستان میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی سفارتی و معاشی سرگرمیاں اور بلوچستان میں بیرونی معاونت کے پاکستانی الزامات سامنے ہوں تو پاکستان کے لیے ان تمام عوامل کو ایک وسیع تزویراتی منظر نامے میں دیکھنا ناگزیر ہے۔

افغانستان، بھارت اور اسرائیل کے بارے میں ہر دعوے کو ایک ہی مشترکہ خفیہ منصوبے کا حتمی ثبوت قرار دینا شاید درست طرزِ تجزیہ نہ ہو؛ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ ان تمام سرگرمیوں کو ایک دوسرے سے مکمل طور پر غیر متعلق سمجھ لیا جائے۔ پاکستان کی سلامتی کے نقط نظر سے اہم بات نتیجہ ہے۔ افغان سرزمین سے TTP کا خطرہ موجود ہے۔ بلوچستان میں ریاست مخالف دہشت گردی موجود ہے۔ پاکستان بھارت پر بعض پراکسی گروہوں کی معاونت کے الزامات عائد کرتا ہے۔ اور بھارت اسرائیل کے ساتھ دفاعی، سلامتی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی شراکت داری مسلسل گہری کر رہا ہے۔ یہ تمام حقائق پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی سلامتی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔

پاکستان کے پاس اب صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے، مضبوط قومی ردعمل۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں۔ کوہاٹ کے شہداء میں 15 پولیس اہلکاروں کی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری پولیس بھی ہر روز قومی سلامتی کی اگلی صف میں کھڑی ہے۔ پولیس لائنز جیسی حساس تنصیبات کی حفاظت کے لیے جدید نگرانی، مضبوط حفاظتی حصار، بروقت انٹیلی جنس تبادلہ، فوری ردعمل اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں تک رسائی ضروری ہے۔ مگر اصل جنگ صرف حملہ آور کو مارنے سے ختم نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے موجود منصوبہ ساز، مالی معاون، سہولت کار، اسلحہ فراہم کرنے والے، سرحد پار رابطے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی ریاست کی گرفت میں آنے چاہئیں۔

پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک جامع قومی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ دنیا کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی خودمختاری میں مداخلت نہیں چاہتا، مگر پاکستان کی خودمختاری کا احترام بھی لازم ہے۔ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو عالمی برادری کو کابل پر واضح دباؤ ڈالنا ہوگا۔ اگر پاکستان کے خلاف بیرونی پراکسیز استعمال ہو رہی ہیں تو ان کے سرپرستوں کو عالمی سطح پر جواب دینا ہوگا۔ اور اگر کوئی ریاست پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو اسلام آباد کو اس معاملے کو ہر عالمی فورم پر پوری قوت سے اٹھانا ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی جانیں قربان کرکے ریاست اور شہریوں کے تحفظ کا فرض نبھایا ہے۔ کوہاٹ کے شہداء کے اہل خانہ کو صرف تعزیتی بیانات نہیں، ریاست کی عملی سرپرستی چاہیے۔

ان کے بچوں کی تعلیم، خاندانوں کی مالی کفالت اور مستقبل کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان شہداء کی تب بامعنی ہوگی جب ریاست دہشت گردی کے پورے نیٹ ورک کو توڑے گی۔ کوہاٹ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ دہشت گردی اب کسی ایک ضلع، صوبے یا ادارے کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کی قومی سلامتی، خودمختاری اور ریاستی استحکام کا مسئلہ ہے۔ دشمن چاہے سرحد پار پناہ گاہ سے آئے، کسی پراکسی کے ذریعے آئے یا کسی بیرونی نیٹ ورک کی معاونت سے—پاکستان کو اسے سخت جواب دینا ہوگا کہ ریاستِ پاکستان اپنی سرزمین، اپنے شہریوں اور اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق رکھتی ہے اور اس حق کے استعمال میں کسی دباؤ کو رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔ کوہاٹ کے شہداء کا خون ہم سے کمزور ردعمل نہیں، قومی اتحاد، مضبوط ریاستی عزم اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی کا تقاضا کرتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے