• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 8:33 شام
  • پاکستان

جب دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جا رہی تھی ہم نے آواز اٹھائی، ہمیں معلوم تھا لاشیں اٹھانی پڑیں گی، وزیراعلیٰ

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں ہونے والے دہشت گردی کو پورے پاکستان کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے، ہم مزید جنازے نہیں اٹھاسکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں آج کے دہشت گردی کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، دھماکے میں ہمارے نوجوانوں اور شہریوں کی شہادت پر دلی رنج و غم ہے، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، دہشت گردی کی نئی لہر میں روزانہ ہمارے پختون بھائی شہید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی بنائی جا رہی تھی ہم نے آواز اٹھائی تھی، ہمیں معلوم تھا کہ ایک بار پھر ہمیں لاشیں اٹھانی پڑیں گی، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ ان کا نقصان پورے پاکستان کو ہوتا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، گزشتہ 22 سال سے ایک پالیسی مسلسل نافذ ہے لیکن خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، بار بار کہہ رہے ہیں کہ اس پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن ہماری بات نہیں سنی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن کے لیے اپنے طور پر ہر ممکن اقدام کر رہی ہے، سال 26-2025 میں اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر پولیس کے لیے 35 ارب روپے بجٹ سے ہٹ کر فراہم کیے، پولیس کو جدید اسلحہ، آلات اور انفرا اسٹرکچر کی ترقی کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے، وفاقی اداروں کو ادائیگیاں ہوچکی ہیں لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو تاحال مطلوبہ آلات اور اے پی سیز فراہم نہیں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے، خیبرپختونخوا پولیس کے لیے مطلوبہ سامان کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، مالی سال 27-2026 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا ہے، جو 103 فیصد اضافہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پولیس جوان، فوجی جوان اور عام شہری سب ہمارے اپنے لوگ ہیں، عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ فوج ہماری ہے، ملک ہمارا ہے، پولیس ہماری ہے اور عوام بھی ہمارے ہیں، ہماری تنقید ان بند کمروں کی پالیسیوں پر ہے جو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے اور مزید خون بہتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، پالیسی میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ایکشن پلان وفاق کو دیا اور 100 دن میں امن لانے کی صلاحیت کا اظہار کیا مگر سوال یہ ہے کہ صوبائی ایکشن پلان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا۔

صوبے میں دہشت گردی کے خلاف ماضی میں کیے گئےآپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 22 سال میں 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا، ہمارے شہید ہونے والے فوجی جوان، پولیس اہلکار اور شہری کسی کے بیٹے، بھائی یا باپ ہیں، ہماری مائیں اور بہنیں بھی دہشت گردی کا نشانہ بن رہی ہیں، آخر کب تک یہ خون بہتا رہے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد میں سنجیدہ فیصلے کرنا ہوں گے، اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے پائیدار امن کے لیے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی، دہشت گردی کی آگ کو نہ روکا گیا تو یہ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ جن لوگوں کو پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے کیا وہ پائیدار امن قائم کرسکتے ہیں، وفاقی وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات ملک میں نفرتیں اور انتشار پیدا کر رہے ہیں، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں وفاقی وزرا کی نامناسب گفتگو قابل افسوس ہے، اگر کوئی وفاقی وزیر خیبرپختونخوا کے عوام کو دہشت گرد قرار دے تو یہ انتہائی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے اور صوبوں کے درمیان نفرت بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں، جن لوگوں نے یہ افراد مسلط کیے ہیں انہیں اپنے وزرا کو ذمہ دارانہ گفتگو کی ہدایت کرنی چاہیے، میں کبھی بنوں میں اپنے شہدا کے پاس جا رہا ہوں، کبھی کوہاٹ، کبھی دیر اور کبھی سوات جا رہا ہوں، جو لوگ عوام کے درمیان نہیں جاتے وہ ہمیں عوامی محبت کا درس نہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اداروں کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں وہ ہمیں اداروں سے محبت کا درس نہ دیں، جنہوں نے سپریم کورٹ پر چڑھائی کی وہ ہمیں اداروں کے احترام کا درس نہ دیں، پاکستان اس وقت دہشت گردی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں حکمرانوں کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کا نوجوان اور کارکن باشعور ہے، 9 مئی کے بعد بھی پی ٹی آئی کارکن ہر اشتعال انگیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا، پرامن ہے اور پرامن رہے گا، 4 اکتوبر کو پاکستان کے عوام پرامن طریقے سے اپنا حق استعمال کریں گے، پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے