ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ٹک ٹاکرز لانگ مارچ سے بھاگ گئے ہیں
مسلم لیگ ن کے رہنماؤں ثمر ہارون بلور، زاہد خان اور مرتضیٰ عباسی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، خیبرپختونخوا حکومت اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تنقید کی۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ٹک ٹاکرز لانگ مارچ سے بھاگ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کل سارا دن کہتے رہے کہ لانگ مارچ ہوگا اور شام کو یوٹرن لے لیا گیا، یہ ڈراما ہونا تھا، پہلے دن سے ہمیں پتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آن لائن فنڈز مانگے اور کروڑوں روپے آئے، جبکہ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ لانگ مارچ سے متعلق فنڈز سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ سلمان اکرم راجا جماعت کے جنرل سیکریٹری ہیں، لانگ مارچ کے لیے آنے والے فنڈز کہاں سے آئے اور کن لوگوں نے بھیجے، اس کا جواب دیا جائے۔
ثمر ہارون بلور نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئی جی پولیس سے متعلق قانون سازی غیر قانونی ہے۔ پولیس فورس خیبرپختونخوا کا فخر ہے، لیکن پی ٹی آئی نے پولیس کا مورال ڈاؤن کیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے اور خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے۔ لانگ مارچ کے باعث تجارت رکی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ٹی ٹی پی کا پولیٹیکل ونگ ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پرویز خٹک سے کہا گیا کہ ٹی ٹی پی والوں کو دفتر کھولنے دو، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے کا کہا تھا۔
زاہد خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا ٹی ٹی پی کے ساتھ لنک ہے اور خیبرپختونخوا میں کرپشن میں سے ٹی ٹی پی کو بھتہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے احکامات دیے تھے کہ خیبرپختونخوا حکومت سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی، تاہم پچھلے لانگ مارچ میں بھی سرکاری گاڑیاں اور وسائل استعمال کیے گئے۔
زاہد خان نے کہا کہ ہم پر سوالات اٹھائے گئے، مذاکرات ناکام ہوئے اور ایک کامیاب آپریشن ہوا۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ افغانستان طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑیں۔ ان سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا پولیٹیکل ونگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں شام کو پولیس اہلکار باہر نہیں نکل سکتے۔ کے پی پولیس کی بہتری کے لیے اربوں روپے کا بجٹ دیا گیا، پولیس کو دہشت گردی سے مقابلے کے لیے کھڑا کرنا تھا، لیکن اب پولیس شہدا کے جنازے نہیں اٹھا پاتی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت نے کے پی پولیس کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ کے پی پولیس کہتی ہے کہ ایک ہزار روپے الاؤنس ملتا ہے، دہشت گردی سے کیسے لڑیں؟
زاہد خان نے کہا کہ احتجاج کرنا ہے تو پُرامن احتجاج کریں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے اگر نظام نہیں چل سکتا تو سیٹ چھوڑ دیں۔ خیبرپختونخوا میں اغوا برائے تاوان کے کیسز ہورہے ہیں اور 7،7 کروڑ روپے لے کر اغوا کیے گئے شہریوں کو رہا کیا جارہا ہے۔ ہمارے سیکیورٹی فورسز کے اداروں پر حملے ہورہے ہیں جبکہ افغان طالبان ڈرونز حملے کررہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما مرتضیٰ عباسی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو پی ٹی آئی سپورٹ کررہی ہے اور پی ٹی آئی بھارتی، اسرائیلی اور افغانی ایجنٹوں کو سپورٹ کررہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں شام کے وقت لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔
مرتضیٰ عباسی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پولیس سے اختیارات واپس لینے کی بات کررہے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو چاہیے کہ پولیس کا مورال بلند کریں، ڈاؤن نہ کریں۔ صوبے میں ہمارے محافظوں کی جانیں قربان ہورہی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ہر محکمے میں کرپشن ہورہی ہے، سہیل آفریدی کو اپنی گورننس بہتر بنانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کا فوکس تعلیم اور صحت پر ہے ہی نہیں، ان کا ایک ہی فوکس ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرائیں۔ یہ جتھوں اور پرتشدد مظاہروں کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنا چاہتے ہیں، عدالتیں موجود ہیں، اگر رہا کرانا ہے تو عدالتوں میں جائیں۔
مرتضیٰ عباسی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوتا ہے تو پی ٹی آئی رکاوٹ ڈالتی ہے۔ لانگ مارچ بنیادی طور پر چندہ اکٹھا کرنے کی مہم تھی اور اسٹریٹ موومنٹ کو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی عوام نے مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، خیبرپختونخوا میں بیٹھ کر پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ بانی کو رہا کرا کے لے کر آئیں گے، نہیں تو مر جائیں گے۔ یہ قوم کو تقسیم کرانا چاہتے ہیں۔
مرتضیٰ عباسی نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ میں اسمبلی فلور پر پی ٹی آئی والوں نے کہا کہ ہم پاکستانی افواج کے ساتھ نہیں۔ ایسے غداروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں ہر پروجیکٹ پر ٹی ٹی پی کو بھتہ دیا جارہا ہے اور سیاسی مفادات کے لیے پی ٹی آئی پاکستان کے محافظوں کی جانیں داؤ پر لگا رہی ہے۔
