• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 10:53 صبح
  • پاکستان

ٹرمپ نے خود پابندی کا اعلان کرتے ہوئے ان اداروں کی رپورٹنگ کو جھوٹا اور منفی قرار دیا تھا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کی رسائی پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایک وفاقی جج کے اس حکم کے بعد ہوئی جس میں تینوں میڈیا اداروں پر پابندی کو بادی النظر میں آئینی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے صحافتی اجازت نامے فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو عارضی طور پر 14 دن کے لیے روک دیا۔ جج نے قرار دیا کہ صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پاس منسوخ کیے جانے سے ان کے آئینی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ مقدمہ CNN، MS NOW اور Politico نے مشترکہ طور پر دائر کیا تھا۔

عدالتی حکم جاری ہونے کے باوجود جمعرات کی صبح تینوں اداروں کے کچھ صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

Politico نے بتایا کہ اس کے رپورٹر کا اجازت نامہ ضبط کرلیا گیا، جبکہ MS NOW اور CNN کے صحافیوں نے بھی داخلے میں رکاوٹ کی اطلاع دی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ صحافیوں کے پریس بیجز کی بحالی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ رسائی فراہم کی جارہی ہے۔

جج کیلی نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے پابندی کے لیے پیش کیے گئے قومی سلامتی کے جواز پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالتی کارروائی کے مطابق ٹرمپ نے خود پابندی کا اعلان کرتے ہوئے ان اداروں کی رپورٹنگ کو جھوٹا اور منفی قرار دیا تھا۔ تاہم عدالت کا موجودہ حکم صرف عارضی طور پر پابندی روکنے سے متعلق ہے، جبکہ مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی آمد سمیت اہم سفارتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ CNN کو وائٹ ہاؤس کے ٹیلی وژن پریس پول سے نکالے جانے کے بعد دیگر بڑے ٹی وی نیٹ ورکس نے بھی اجتماعی کوریج کے انتظام میں حصہ لینے سے گریز کیا تھا، جس کے باعث شی جن پنگ کی آمد کی تقریب کی معمول کے مطابق براہِ راست ٹی وی کوریج متاثر ہوئی۔

ٹرمپ نے 18 ستمبر کو CNN، MS NOW اور Politico کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ ادارے ان کی صدارت کی کوریج کے دوران ایسی خبریں نشر کرتے ہیں جنہیں وہ ’’فکشن اور جھوٹ‘‘ سمجھتے ہیں۔ تینوں میڈیا اداروں نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا، جس کے بعد جج ٹموتھی کیلی نے فی الحال ان کی رسائی بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے