مذاکرات کے دوران مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے دوسرے روز کاروباری آسانیوں اور ٹیکس اصلاحات سمیت دیگر امور پر گفتگو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کے اراکین سے ملاقات ہوگی، جس میں معاشی امور اور کاروباری آسانیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ ملاقات میں کاروباری حضرات کے لیے بجلی کی لاگت اور ترسیل سے متعلق امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
علاوہ ازیں آئی ایم ایف وفد سے ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر بھی گفتگو ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن ٹیکنیکل مذاکرات میں بھی حصہ لے گا، جن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بنیادی شرح سود پر بات چیت کی جائے گی۔ ٹیکنیکل مذاکرات میں ایکسچینج ریٹ سمیت دیگر اہم معاشی امور بھی زیر بحث آئیں گے، جبکہ آئی ایم ایف وفد کو پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو یورو بانڈ کے کامیاب اجرا اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم کے بارے میں بھی بریفنگ دی جائے گی۔ مذاکرات کے دوران مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی کے مؤثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
