کیلشیم، میگنیشیم، آئرن، زنک اور وٹامن ای ان کے نمایاں غذائی اجزا میں شامل ہیں
صحت مند غذا میں پھلوں، سبزیوں اور دیگر غذاؤں کے ساتھ بعض چھوٹے بیج بھی اہم غذائی اجزا کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہی میں تل شامل ہیں، جو سیسم انڈیکم نامی پودے سے حاصل ہوتے ہیں اور سفید و سیاہ دونوں رنگوں میں دستیاب ہوتے ہیں۔
تل عام طور پر ٹراپیکل علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں اور انہیں کھانوں میں ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن ان کی غذائی اہمیت بھی کم نہیں۔ ان میں پروٹین، غذائی فائبر، وٹامنز اور مختلف معدنیات پائی جاتی ہیں۔ کیلشیم، میگنیشیم، آئرن، زنک اور وٹامن ای ان کے نمایاں غذائی اجزا میں شامل ہیں۔
دل کی صحت کے حوالے سے تل میں موجود صحت مند چکنائیاں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں تقریباً 39 فیصد مونوسیچوریٹڈ اور 14 فیصد پولی ان سیچوریٹڈ فیٹس پائے جاتے ہیں، جبکہ اومیگا تھری اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈز بھی موجود ہوتے ہیں۔ ان اجزا کو مجموعی طور پر دل کی صحت کے لیے مفید غذا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
تل میں پائے جانے والے لیگنان اور فائٹوسٹیرول بھی کولیسٹرول کے حوالے سے اہم ہیں۔ یہ مرکبات خون میں کولیسٹرول کی سطح کو بہتر رکھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں، جبکہ فائبر نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ مناسب مقدار میں فائبر کا استعمال قبض کی روک تھام اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرے سے منسلک ہے، جبکہ تل میں موجود میگنیشیم بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے والی غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لیگنان، وٹامن ای اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں آکسیڈیٹو اسٹریس سے نمٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی تل غذائی اعتبار سے اہم ہیں۔ ان میں موجود کیلشیم ہڈیوں کے لیے بنیادی معدنیات میں شامل ہے، جبکہ میگنیشیم اور زنک جسم کے مختلف اہم افعال میں حصہ لیتے ہیں، جن میں کولیجن کی تیاری بھی شامل ہے۔
تل کے بیجوں میں موجود غذائی اجزا جلد کی صحت کے لیے بھی معاون ہوسکتے ہیں۔ ان کے فیٹی ایسڈز اور دیگر غذائی مرکبات جلد کو مجموعی طور پر صحت مند رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم کسی ایک غذا کو جلد کی خوبصورتی کا واحد ذریعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
بلڈ شوگر کے حوالے سے بھی تل میں موجود فائبر اہم ہے۔ فائبر کاربوہائیڈریٹس کے ہاضمے اور جذب کی رفتار کو سست کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں کھانے کے بعد خون میں شوگر کے تیزی سے بڑھنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔
اس لیے تل کو معمول کی متوازن غذا میں مناسب مقدار کے ساتھ شامل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی ایک غذا کو بیماریوں سے بچاؤ یا علاج کا مکمل متبادل سمجھنے کے بجائے اسے مجموعی صحت مند طرزِ زندگی کا حصہ بنانا زیادہ مناسب ہے۔
