• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 4:06 صبح
  • پاکستان

ترجمان کے الیکٹرک سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے معلوم کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا

کراچی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جبکہ دوسری جانب مختتلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ چودہ سے اٹھارہ گھنٹے تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے شہری گرمی میں بلبلا اٹھے، نا دن میں بجلی ہے نا رات میں جس کی وجہ سے پانی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے، متاثرہ علاقوں میں کورنگی، لانڈھی، ایف سی ایریا لیاقت آباد، سرجانی ٹاون ، اورنگی ٹاون، اتحاد ٹاون سمیت دیگرعلاقوں میں بجلی کی غیراعلانیہ بندش کا سلسلہ جا ری ہے جبکہ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ شہرمیں زیادہ سے زیادہ دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے بجلی اور پانی کی طلب میں بھی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں بدترین لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے مختلف مقاما ت پر بجلی کی طویل بندش پر مظاہرے بھی کئے جار ہے ہیں۔

لیاقت آبا دایف سی ایریا کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوڈشیڈنگ اٹھارہ گھنٹے تک پہنچ گئی ہے ہماری زندگی اجیرن ہوگئی ہے بجلی نہ ہونے سے پانی بھی نایاب ہوجاتا ہے بہت مشکل زندگی ہوگئی خاص طور بزرگ ، خواتین بچوں کا گرمی سے برا حال ہوجاتا ہے حکومت کو اس پر نوٹس لیننے کی ضرورت ہے۔

ایف سی ایریا کے اسکولوں کے بچوں نے بھی کے الیکٹرک کے دفتر جو ٹنکی گراونڈ ایف سی ایریا میں واقع ہے احتجاج کیا بچوں کا کہنا ہے کہ دن رات لوڈشیڈنگ ہورہی ہے چند گھنٹوں کے لئے بجلی آتی ہے ہماری تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول نہیں، رات 10 بجے لائٹ جاتی ہے تو علی الصبح ساڑھے 4 بجے آتی ہے، صبح ساڑھے 7 بجے پھر بند کر دی جاتی ہے اور سارا دن آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔علاقے مکینوں نے بتایا کہ بجلی نہ ہونے سے پانی کی موٹر نہیں چلتی، 3 دن سے گھر میں پانی کا ایک قطرہ نہیں، پانی خرید کر استعمال کر رہے ہیں ۔

ایک ایف سی ایریا کے مکین نے بتایا کہ کہ میرے والد دل کے مریض ہیں، گرمی اور حبس سے ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، ڈاکٹر نے اے سی میں رکھنے کا کہا ہے، یہاں پنکھا تک نہیں چلتا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، علاقہ مکینوں کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ جو لوگ بل ادا کر رہے ہیں پھر بھی سزا سب کو مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک والے کہتے ہیں بل بھروائیں، یہ ہمارا کام نہیں، جو چوری کر رہے ہیں ان کے کنڈے اور میٹر کاٹو، ہمارے میٹر کیوں بند کرتے ہو؟ جو بل نہیں بھرتا اس کا کنکشن کاٹو، پورے علاقے کو اندھیرے میں کیوں دھکیل رہے ہو؟

علاقہ مکینوں نے وفاقی حکومت وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ اور نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف سی ایریا، پنجاب کالونی، کرسچن کالونی اور لیاقت آباد میں جاری 18 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے اور بل ادا کرنے والے صارفین کو فوری طور پر بلا تعطل بجلی اور پانی فراہم کیا جائے۔

اسی طرح کورنگی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پورے پورے دن بجلی غائب رہتی ہے رات کے اوقات میں چار گھنٹے کے لئے بجلی آتی ہے دن میں بھی صرف دو سے تین گھنٹے بجلی رہتی ہے زندگی اجیرن ہوگئی ہے شدید گرمی میں بے حال ہو جا تے ہیں۔

اسی طرح سرجانی ٹاون ، اورنگی ٹاون ،لانڈھی ، سمیت متعدد علاقوں میں چودہ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، ترجمان کے الیکٹرک سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے معلوم کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے