ملزم بخت بلند اور یوسف رحمان نے 2021 میں زیب النسا کو فائرنگ کرکے قتل جبکہ انور کو زخمی کیا تھا، پراسیکیوشن
سندھ ہائیکورٹ نے جمشید کوارٹرز میں گھریلو تنازع پر دہرے قتل کے مقدمے میں خاتون زیب النسا کے قتل کے جرم میں ملزم بخت بلند کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جسٹس شمس الدین عباسی پر مشتمل بینچ نے جمشید کوارٹرز میں گھریلو تنازع پر دہرے قتل کے مقدمے میں ملزمان بخت بلند اور بابر خان کی سزا کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ سنادیا۔
عدالت نے خاتون زیب النسا کے قتل کے جرم میں ملزم بخت بلند کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔ عدالت نے ملزم کو ہارون کے قتل اور اقدام قتل کے الزامات سے بری کردیا۔ عدالت نے ملزم بخت بلند کی غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں سزا برقرار رکھی۔
عدالت نے شریک ملزم بابر خان کو سہولتکاری کے الزامات میں سزا میں کمی کرتے ہوئے جیل میں گزرے وقت تک محدود کردیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم بخت بلند اور مقتولہ زیب النسا کے درمیان ازدواجی تنازع، بچوں کے نان نفقے اور زیر التوا مقدمات وقوعے کا پس منظر ثابت کرتے ہیں۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم بخت بلند اور یوسف رحمان نے 2021 میں گھریلو تنازع پر زیب النسا کو فائرنگ کرکے قتل جبکہ انور کو زخمی کیا تھا۔ ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے مقتولہ کے بھائی ہارون کو بھی گولی مار کر قتل کیا تھا۔ ملزم بخت بلند کو مانسہرہ سے گرفتار کیا گیا۔ شریک ملزم یوسف رحمان مقدمے میں مفرور ہے۔
