پرانا سامان خریدنے والی فیملی کو سوٹ کیس سے کیا ملا؟ دل دہلا دینے والا واقعہ
مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا
عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق
شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ
مجھے یہ زبردستی کا سوال معلوم ہوتا ہے۔ میں کیوں لکھتا ہوں؟ یا کوئی کیوں لکھتا ہے؟ اس کے جواب میں اگر یہ کہہ کر چپ سادھ لی جائے کہ اگر میں کوئی دوسرا کام کرتا ہوتا تو بھی سوال کا خطرہ باقی رہتا تو جواب دینے والے سے پھر کوئی مزید سوال کرنا زیادتی ہوتا۔
اگر میں گھسیارا ہوتا تو آپ اسی تیور کے ساتھ مجھ سے پوچھ سکتے تھے کہ میں گھاس کیوں کاٹتا ہوں؟ اس وقت میں کیا جواب دیتا؟
میں کیوں لکھتاہوں؟ کاش ہاجرہ مسرور کی طرح میں بھی کہہ سکتا کہ ’’جائیے نہیں بتاتے آپ کا جو بھی جی چاہے کر لیجیے۔‘‘ لیکن اس قسم کا جواب شاید میری زبان سے مناسب یا قابل قبول نہ ہو۔ ایک نہایت بے ساختہ جواب ہاجرہ مسرور ہی کی زبان میں یہ ہو سکتا تھا کہ ’’جی چاہتا ہے لکھتے ہیں۔‘‘ اور سوال کا اصلی جواب یہی ہے، مگر ایسے مختصر جواب سے پوچھنے والے کی تشفی نہیں ہو سکتی۔
تو سنیے۔۔۔ میں لکھتا اس لئے ہوں کہ لکھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ میں لکھنے کے لئے مجبور ہوں، بالکل اسی طرح جس طرح بچھو ڈنک مارنے کے لئے مجبور ہے۔
میری اٹھان ہی کچھ ایسی ہے کہ لکھنا پڑھنا میری زندگی کا ایک ضروری مشغلہ ہو کر رہ گیا ہے۔ بچپن سے علم و ادب کی قدر اور زندگی کی تمام دوسری قدروں پر اس کی فوقیت کا احساس میرے ریشہ ریشہ میں پیدا کر دیا گیا تھا، اس احساس کی روشنی میں زندگی کے جس دوسرے کام کو دیکھتا تھا ادنی معلوم ہوتا تھا۔ یہ ایک لازمی نتیجہ تھا اس فضا اور ماحول اور ان مواقع کا جو بچپن سے لے کر کم و بیش تیس سال کی عمر تک مجھے میسر رہے۔
میرے شجرے میں ایک طرف تو زمینداری تھی اور دوسری طرف علم و حکمت اور فقر و درویشی اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مجھے دونوں میں سے ایک کے ساتھ بھی کوئی طبعی مناسبت نہیں تھی۔ میں ہمیشہ ایک کو زبردستی اور دوسرے کو خواب گزینی یا تاویل بازی یا نفاق اور فساد کے لئے ایک ڈھونگ سمجھتا رہا۔ لیکن میرے کردار کی ایک خصوصیت ڈاکٹر جنیویر مرحوم پرنسپل ایونگ کرسچین کالج الہ آباد کے الفاظ میں یہ رہی ہے کہ ’’یہ شخص جانتا ہے کہ کہاں سے یا کس سے کیا چیز لے لے اور کیا چیز چھوڑ دے۔‘‘ میں نے اس کا بڑا خیال رکھا کہ جاگیرداری اور علمی فضیلت اور درویشانہ تصوف دونوں سے جتنی اچھائیاں مل سکیں حاصل کر لوں، اور ان کی تمام نحوستوں کو نہ صرف چھوڑ دوں، بلکہ جہاں تک اور جس جس صورت سے ممکن ہو، ان نحوستوں کو مٹانے کے لئے والہانہ کوششیں کرتا رہوں۔
مجھے اور شاید مجھ سے زیادہ میری دادی کو، جو میری تمام ابتدائی تعلیم و تربیت اور مزاج و کردار کی تشکیل کی ذمہ دار تھیں، یہ احساس کانٹے کی طرح کھٹک رہا تھا کہ میری جسمانی ساخت خطرناک حد تک نازک اور کمزور ہے۔ میرا تو خیر بچپن یا لڑکپن تھا۔ میری دادی کو، جو غیر معمولی حد تک دوربین اور عاقبت اندیش تھیں، یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ میں جسمانی اعتبار سے کوئی کامیاب زندگی نہیں بسر کر سکتا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بہت جلد معلوم کر لیا اور مجھے بھی محسوس ہونے لگا کہ میرے اندر کچھ ایسی صلاحیتیں ہیں جو دو پیڑھی پہلے اور دو پیڑھی بعد تک میرے نسب نامہ میں کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔
میری دادی نے میری ان صلاحیتوں کو تربیت دے کر پروان چڑھانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور میں خود اپنی تمام کمزوریوں اور ناتوانیوں کا احساس لئے ہوئے اس پر کمر باندھ چکا تھا کہ اپنی ان قوتوں کو جن کو عام زبان میں غیر جسمانی قوتیں کہتے ہیں جس قدر ہو سکے گا فروغ دوں گا اور انہیں کے بل بوتے پر دنیا میں اپنی ساکھ اور اپنی قدر قائم کروں گا اور اب تک جو میں رہا اور جو کچھ کیا وہ میری دادی کی پیش بندی اور خود میرے عہد کی ایک نمایاں اور مبسوط شہادت ہے۔
مجھے ایک طرف تو بہتیروں کے مقابلہ میں ایک خاص عمر تک آزادی، فرصت اور سہولت کے خاطر خواہ لمحات نصیب رہے، دوسری طرف وہ تمام فراغتیں حاصل تھیں جن کو روایتی زبان میں ’’دولت روحانی‘‘ کہتے ہیں۔ میں نے تیرہ یا چودہ سال کی عمر میں جب انگریزی اسکول کے چھٹے درجہ میں نام لکھوایا تو عربی، فارسی اور کافی حد تک ہندی زبان کی شاعری سے پر اعتماد واقفیت رکھتا تھا۔ یہی نہیں، تفسیر و حدیث، علم فقہ، علم کلام، منطق اور معانی و بیان سبھی سے میری واقف کارانہ رسم و راہ ہو چکی تھی۔ نصابی کتابوں کے علاوہ مجھے جتنی باہر کی کتابیں مل سکتی تھیں، حاصل کر کے پڑھتا تھا اور ان پر غور کرتا تھا۔ یہ میری زندگی کا وہ معمول تھا جس کو میں عین زندگی سمجھتا تھا۔
میں بغیر کسی قسم کے پندار یا غرور کے کہہ سکتا ہوں کہ میری ابتدائی تعلیم و تربیت کچھ ایسی رہی کہ میرے مزاج و کردار میں وہ ہمہ گیری، وہ فراخ دلی، وہ آزادی اور وہ حقیقت آشنائی آ گئی جس کی مثال آج تک مجھ کو اپنے عزیزوں، دوستوں اور ملاقاتیوں کے وسیع حلقے میں کسی دوسرے کے اندر نہیں ملتی اور جس کی بنا پر آج باون سال کی عمر تک اپنے کو اپنے ملک کی بھری محفل میں اجنبی پا رہا ہوں۔ نظیری کے ’’غریب در وطن‘‘ کی اس سے زیادہ مکمل اور عبرت ناک مثال شاید ہی کوئی اور ملے۔ مجھے بے باکی کے ساتھ کھرے کو کھرا اور کھوٹے کو کھوٹا، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ، اصلیت کو اصلیت اور فریب کو فریب کہہ دینے میں کبھی کوئی تامل نہیں ہوا اور میری زبان اور میرے قلم نے اس معاملے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
مشرقی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کے ساتھ بچپن ہی میں اتنا لگاؤ پیدا کر دیا گیا تھا کہ آج تک میرے اندر وہ ایک ذوق کی طرح کام کر رہا ہے، جس کی تکمیل کے لئے میں اپنے مطالعہ میں اس عمر تک اضافے کرتا رہا ہوں اور جہاں سے جو نیا ماخذ مجھ کو مل سکا ہے میں نے اس سے پورا استفادہ کیا ہے۔ بعد کو جب مجھے انگریزی زبان پر کافی قدرت حاصل ہو گئی تو اس کے توسط سے میں نے ساری دنیا کی تواریخ اور تمدن اور علوم و فنون کے متعلق جس قدر مواد اپنے اندر جذب کر سکا، کر لیا۔ یہ کوئی خود ستائی نہیں ہے، بلکہ محض ایک امر واقعہ کا اظہار ہے۔ اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ اس اٹھان اور اس قماش کا آدمی پڑھنے لکھنے کے سوا اور کس مصرف کا ہو سکتا ہے۔
