• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 2:24 شام
  • پاکستان

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

بغداد: عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے پیر کے روز کہا کہ ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی، حالاں کہ بغداد ایران کو خطے میں اپنا شراکت دار سمجھتا ہے۔

علی الزیدی نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا ’’ایران عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، ہم نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی، لیکن ایران کی طرف سے آنے والا فیصلہ دوٹوک ہے۔‘‘

عراقی وزیر اعظم نے کہا ’’ایران کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ وہ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ کسی کے ان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں یا نہیں، وہ بس دباؤ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک عراق کو آمدنی کی مد میں تقریباً 60 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے ماہانہ تیل آمدنی میں ساٹھ فیصد کمی آئی ہے۔

حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد کے لیے برطانیہ کا وائجر طیارہ میدان میں آ گیا

اس انٹرویو میں عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی نے یہ بھی کہا کہ بغداد کا ہدف جون 2027 تک ایران نواز ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل کرنا ہے۔ اس طرح ملک کے طاقت ور مسلح دھڑوں کو حکومتی کنٹرول میں لانے کے لیے ایک حتمی مدت مقرر کر دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ملیشیائیں پہلے 90 دن تک کوئی حملہ کیے بغیر جنگ بندی کی کیفیت برقرار رکھیں گی، جب کہ انھیں یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے گی کہ امریکی افواج انھیں نشانہ نہیں بنائیں گی۔ اس کے بعد یہ گروہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنا شروع کریں گے، اور حکومت کا ہدف ہے کہ یہ عمل 30 جون 2027 تک مکمل کر لیا جائے۔ تاہم ملیشیائیں 2027 کے اختتام تک اس مدت میں توسیع کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے