• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 1:16 شام
  • پاکستان

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسکرین شاٹس نے طالبات کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے

خواجہ فرید یونیورسٹی میں لیکچرار کی جانب سے طالبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس سامنے آگئے۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اسکرین شاٹس نے طالبات کے تحفظ پر سوالات اٹھا دیے۔

طالبہ نے لیکچرار پر مبینہ ہراساں کرنے اور نامناسب واٹس ایپ پیغامات بھیجنے جبکہ ملاقات کے لیے مبینہ دباؤ اور انکار پر تعلیمی نقصان کی دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش واٹس ایپ اسکرین شاٹس میں استاد کی جانب سے طالبہ کو نمبرز اور گریڈز کا لالچ دے کر ہراساں کیا گیا ہے۔

یہ سکرین شاٹس مبینہ طور پر ضلع رحیم یار خان خواجہ فریدؒ یونیورسٹی میں پڑھتی ایک طالبہ کی طرف سے سوشل میڈیا فیس بک کے ایک گروپ میں شئیر کئے گئے ہیں. جس نے شاید خوف کے مارے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی. اس میں ایک استاد اس کو نمبرز/ گریڈز کا خوف لالچ دے کر جنسی تعلق چاہتا ہے. اس کی فی… pic.twitter.com/zHC0bBcBS4 — Ather Salem® (@AthSal01) September 22, 2026

یہ سکرین شاٹس مبینہ طور پر ضلع رحیم یار خان خواجہ فریدؒ یونیورسٹی میں پڑھتی ایک طالبہ کی طرف سے سوشل میڈیا فیس بک کے ایک گروپ میں شئیر کئے گئے ہیں. جس نے شاید خوف کے مارے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی. اس میں ایک استاد اس کو نمبرز/ گریڈز کا خوف لالچ دے کر جنسی تعلق چاہتا ہے. اس کی فی… pic.twitter.com/zHC0bBcBS4

طالبہ نے دعویٰ کیا کہ لیکچرار کی طرف سے یونیورسٹی، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے پریشان کیا جا رہا ہے۔

طالبہ نے مبینہ رابطوں اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہونے کا دعویٰ کر دیا جبکہ طالبہ نے وائس چانسلر کو ای میل کے ذریعے معاملے سے آگاہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ باقاعدہ شکایت موصول ہونے پر ضابطے کے مطابق تحقیقات اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے