• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 8:24 شام
  • پاکستان

اہم شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹینروں میں مٹی کی بوریاں بھرنے کا فیصلہ کیا گیا اور درجنوں مزدوروں کو کام پر لگادیا گیا ہے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی طرف شیڈول لانگ مارچ کو روکنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور داخلی راستوں پر خندقیں کھودی جار ہی ہیں اور مورچے بنائے جارہے ہیں جس کے لیے مزدوروں کو کم پر لگایا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین کو داخلے سے روکنے کے لیے سخت اقدات کرتے ہوئے اہم شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹینروں میں مٹی کی بوریاں بھرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ریڈزون کے گرد رکھے گئے کنٹینرز میں مٹی سے بھری بوریاں ڈالی جائیں گی، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمدروفت روکنے کے لیے مٹی کی بوریاں رکھی جائیں گی۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ بوریوں میں مٹی بھرنے کے لیے درجنوں مزدوروں کو کام پر لگا دیا گیا ہے، مزدور صبح سے شام تک مٹی کی بوریاں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں، بوریاں بھرنے کے لیے مٹی کی ٹرالیاں ریڈزون میں منگوائی جا رہی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ریڈزو ن کے داخلی ںاکوں پر مٹی کی بوریوں سے مورچے بھی بنائے جائیں گے اور مظاہرین کو روکنے کے لیے داخلی راستوں پر سڑکیں کھودنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ داخلی سڑکوں پر خندقیں کھودکر وہاں سے آمدورفت ناممکن بنانے کا پلان بنایا گیا، راولپنڈی اسلام آباد پولیس کے افسران کو خندقیں کھودنے کے لیے مشینری اور مزدور جمع کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ سڑکیں روکنے اور کنٹینروں میں بھرنے کے لیے دو لاکھ بوریاں مٹی سے بھرنے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے، 26 نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جے روڈ سمیت خیبرپختونخواہ سے آنے والی سڑکوں پر خندقیں کھودی جائیں گی۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر سے لاکھوں لوگ اس مارچ کا حصہ ہوں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے۔

دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت مارچ روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور کسی بھی اسلام آباد بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

محسن نقوی نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اس طرح کی منصوبہ بندی کا کوئی جواز نہیں بنتا اور کسی کو اسلام آباد بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، اس لیے پہلے ہی بتارہے ہیں تاکہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہت وضاحت کے ساتھ ہم نے بتا دیا ہے کہ اگر کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو توہین عدالت پر جائیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے، دوسرے نمبر پر ہم ان کو ہر ممکن طریقے سے روکیں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے