شوہر نے میکے سے واپس آنے سے انکار پر بیوی کی ناک کاٹ دی
’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘
اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد
جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی
یوں لگتا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان فوبیا میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اور محسوس ہورہا ہے کہ اب انہی الفاظ اور انداز میں وہ اپنی تقاریر بھی پیش کر رہے ہیں جو وزیر اعظم شہباز شریف اپنا رہے ہیں۔
ستمبر میں دو الگ الگ علاقائی تنظیوں کے اجلاس ہوئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس قازقستان میں ہوا۔ اور برکس کا اجلاس بھارت کے دارالحکومت نئی دلّی میں ہوا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایس سی او اجلاس میں شرکت کی جب کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی دونوں اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جو طرز تقریر اپنایا نریندر مودی نے چند روز بعد ہونے والے برکس کے سربراہی اجلاس میں اسی انداز کو اپنایا۔ ان دونوں رہنماؤں کے اجلاس میں خطاب کا موازنہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس تحریر میں ہم برکس اجلاس میں بھارت کی جگ ہنسائی پر بھی بات کریں گے۔
شہباز شریف نے ایس سی او اجلاس میں ایک جارحانہ انداز اپناتے ہوئے بھارت کا نام لئے بغیر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر کڑی تنقید کی تھی۔ انہوں نے پانی کو سیاسی دباؤ بڑھانے اور تنازعات میں بطور ہتھیار استعمال کرنے یعنی ویپنائزیشن کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ آبی معاہدوں کو بلا تعطل اور غیر مشروط تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پانی کا بطور ہتھیار استعمال محض ایک اصطلاح نہیں ہے بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے جس کو پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے پر اپنایا ہے اور تسلسل کے ساتھ پاکستانی قیادت اور دفتر خارجہ اس پر بات کر رہے ہیں۔
نریندر مودی نے شہباز شریف کے اس خطاب کے چند روز بعد برکس کے سربراہی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں ٹیکنالوجی اور قیمتی معدنیات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے ویپنائزیشن کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ ان چیزوں کو ہتھیار بنانا تمام ممالک کی مشترکہ اور پائیدار ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو نریندر مودی کی برکس میں کی گئی تقریر کے بہت سے اہم نکات اس سے قبل شہباز شریف اپنی ایس سی او اجلاس کی تقریر میں کر چکے ہیں۔ شہباز شریف نے خطے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون اور مصنوعی ذہانت کی گورننس کے حوالے سے ایک طریقۂ کار وضع کرنے کی تجویز بھی ایس سی اجلاس میں دی تھی۔ جب کہ برکس اجلاس میں نریندر مودی نے زراعت، ٹیکنالوجی اور فارمرز کی بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت، جیو اسپیشل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو آپس میں مربوط کرنے پر زور دیا۔
ایس سی او اجلاس میں شہباز شریف نے مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ فریم ورک، محفوظ اور پائیدار سپلائی چینز، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور گلوبل ساؤتھ یعنی ترقی پذیر دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی اور اسی قسم کی باتیں نریندر مودی نے اپنے برکس کے خطاب میں کیں۔
اب یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ نریندر مودی نے اس وقت عالمی سطح پر اور خطے میں درپیش مسائل پر بات کی ہوگی۔ مگر نریندر مودی کے ایس سی او اجلاس میں کئے گئے خطاب کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں وہ دہشت گردی، مجموعی حفاظت، سرحد پار تجارت پر بات کرتے رہے۔
برکس اجلاس بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی کو دھچکا برکس کے حالیہ اجلاس میں بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری نسل کشی کی کھل کر مذمت کی۔ اور نسل کشی روکنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کی برکس ملکوں کی جانب سے مذمت کی گئی۔ غزہ اور ایران میں جارحیت کی مذمت بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف ہے۔ بھارت اس حوالے سے مذمت کو اعلامیے کا حصہ نہیں بنانا چاہتا تھا۔ کیونکہ نریندر مودی اسرائیل کو فارد لینڈ قرار دے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اصرار پر برکس اجلاس میں پہلگام واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ مگر وہ پاکستان کا نام اس مذمت میں شامل کرانے میں ناکام رہا ہے۔ پہلگام واقعے کو اعلامیے کا حصہ بنانے کے لئے بھارت نے اسرائیل کی مذمت کو برداشت کیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ بھارت گزشتہ سال برکس اعلامیے میں پہلگام کو شامل کرانے میں بھی ناکام رہا تھا۔
چینی صدر ناراض کیوں ہوئے برکس اجلاس میں چینی صدر شی ین پنگ کے چہرے پر ناگواری اور کوفت کو سفارتی حلقوں میں بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ چینی صدر سب سے آخر میں نئی دلّی پہنچے اور سب سے پہلے نئی دلّی سے واپس روانہ ہوئے۔ یو محسوس ہوتا ہے کہ چینی صدر محض اس لئے نئی دلّی میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے کیونکہ آئندہ سال یہ اجلاس چین میں ہونا ہے۔ اور بطور میزبان چینی صدر کو سب راہنماؤں کا استقبال کرنا ہوگا۔
چینی صدر شی ین پنگ کو بیمار ظاہر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ چینی صدر برکس کے سربراہی اجلاس میں تاخیر سے پہنچے۔ اس وقت تک نریندر مودی کی تقریر شروع ہوچکی تھی۔ نریندر مودی نے اپنی تقریر روک یہ پوچھنا شروع کردیا کہ شی ین پنگ ٹھیک تو ہیں۔ مودی کی تقریر میں سولہ سیکنڈ کا تعطل آیا۔
اُس طرف تو گودی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنی تقریر روک کر شی ین پنگ کی طبعیت دریافت کی۔ مگر اس طرح شی ین پنگ کی صحت پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی گودی میڈیا چینی صدر شی ین پنگ اور نریندر مودی کی صحت اور فٹنس کا موازنہ کرتا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا اکثر نریندر مودی کو اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنے، یوگا کرنے والے سربراہ مملکت کے طور پر دکھاتا ہے۔ جب کہ چینی صدر کی جانب سے عوامی تقریبات سے آرام کے لیے وقفہ لینے یا کسی وجہ سے بظاہر سست اور عدم توجہی کا شکار نظر آنے پر اسے کمزوری اور صحت کے مسائل سے جوڑ دیتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے نریندر مودی کے ہوائی جہاز کی سیڑھیوں کی ریلنگ پکڑے بغیر اترنے اور چینی صدر کے سیڑھیوں کی ریلنگ کا سہارا لے کر اترنے کا موازنہ بھی کیا ہے۔ اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ نریندر مودی چینی صدر سے زیادہ صحت مند اور چاق و چوبند ہیں۔
نریندر مودی کا غیر سفارتی رویہ برکس اجلاس میں میزبان نریندر مودی اور ان کے سفارتی عملے کی آداب کے منافی حرکتوں کا چرچا بھارتی اور غیر ملکی میڈیا پر ہو رہا ہے۔ نریندر مودی کو انگریزی نہیں آتی، اس وجہ سے وہ اکثر غیر ملکی راہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر رسمی کلمات کی ادائیگی یا گفتگو کرنے کے بجائے گلے ملنے اور ہاتھ پکڑ کر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی دوستی، دیرنہ تعلقات اور گرمجوشی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔ اس میں مودی اکثر سفارتی آداب کو پامال کر جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب رہنماؤں کی تصویر بنائی جارہی تھی۔ ہر لیڈر تصویر کے لئے اپنی اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور تصویر بننے کے بعد جب وہ سب واپس جانے لگے تو نریندر مودی نے ایک طرف سے چینی صدر شی ین پنگ کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنی طرف کھینچا، مگر چینی صدر نے اپنی جگہ سے جنبش نہ کی تو دوسری طرف موجود روسی صدر پوتن کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اپنے قریب کرنے کے لیے کھینچا جس سے صدر پوتن کا توازن بگڑ گیا اور وہ گرتے گرتے بچے۔
ماہرینِ کا کہنا ہے کہ سربراہانِ مملکت کے درمیان باضابطہ میل جول میں ایک خاص فاصلے اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جاتا ہے اور بسا اوقات تو یہ بات بھی طے ہوتی ہے کہ مصافحے کے لئے پہلے ہاتھ کون بڑھائے گا۔ اور کون کتنے قدم چل کر آگے بڑھے گا۔
سبزی خوری پر مجبور کرنا برکس اجلاس میں سربراہ مملکت کے گالا ڈنر میں گوشت کے پکوان نہیں رکھے گئے جس پر بھارت میں بھی کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ برکس گالا ڈنر کا جو مینو سامنے آیا ہے اس میں سبزیوں اور چاول کی مختلف ڈشز شامل تھیں جن کو پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ بھارت میں لوگ گوشت نہیں کھاتے۔ جب کہ نئی دلّی جہاں برکس میں شریک دنیا بھر کے ممالک سے آئے ہوئے سربراہان اور سفارت کاروں کے لئے گالا ڈنر رکھا گیا تھا وہ شہر ہے جو گوشت سے تیار کردہ قسم قسم کے لذیذ کھانوں کے لیے مشہور ہے جن میں کباب، نہاری، پائے، بریانی بہت مشہور ہیں۔
مودی سرکار کی اس حرکت کی وجہ سے بہت سے سربراہانِ مملکت بھوکے رہ گئے اور میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ان راہنماؤں میں سے کئی نے اپنے ہوٹل واپس جانے کے بعد اپنی پسند کا کھانا منگوا کر کھایا۔
سفارتی آداب میں شامل ہے کہ مہمان کی پسند، ناپسند کا خیال رکھا جائے یا اس کی کھانے پینے میں رغبت اور اس کی خواہش کو اہمیت دی جائے۔ اس میں یہ بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ مہمان اپنے مذہبی عقائد یا کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے کیا کھانا پینا چاہتا ہے اور اسی کے مطابق میزبان ملک اپنا دسترخوان تربیت دیتا ہے۔ سفارتی آداب کے مطابق ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے جس میں معلوم کیا جاتا ہے کہ مہمان کو کسی کھانے سے الرجی تو نہیں یا پھر اسے طبی بنیادوں پر پرہیز بتایا گیا ہے۔
بھارتی سفارت کاروں کی جگالی بھارت نے پہلے قطار میں سربراہان مملکت کو جگہ دی تھی اور عقبی قطاروں میں بھارتی سیاستدان اور سفارتی عملہ براجمان تھا۔ اور ہر نشت پر تواضع کے لئے خشک میوجات رکھے ہوئے تھے۔ بھارت کے مشیر برائے سکیورٹی اجیت دیول کی نشت روسی صدر ولادیمیر پوتن کے عین پیچھے تھی۔ پوتن خطاب کرتے رہے اور اجیت دیول میوہ جات پر ہاتھ صاف کرتے رہے۔ اسی طرح بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان جو کہ ایرانی صدر مسعود بزشکیان کے پیچھے نشست پر بیٹھے تھے مسلسل کھاتے ہوئے دکھائی دیے۔ بھارت کے اعلٰی ترین منصب پر فائز شخصیات کا یہ طرز عمل سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔
ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا کی رسوائی برکس اجلاس میں ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بھارتی نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے اینکر پرسن وشنو سوم نے انٹرویو لیا جس میں انور ابراہیم سے پاکستان کے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی۔ اینکر نے اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی پر سوال کیا تو انور ابراہیم نے اسے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ اینکر نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا اسی معیار کے تحت آپ پاکستان کے اقدامات کو بھی ریاستی دہشت گردی کہیں گے؟ اس کوشش پر انور ابراہیم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "میں اس حد تک نہیں جاؤں گا۔”
اس بدنیتی پر مبنی سوال اور بے جا اور غیرمنطقی موازنے کی کوشش پر اپنی بے عزتی کے باوجود بھارتی اینکر پرسن نے انور ابراہیم پر دباؤ ڈالنے کے انداز میں کہا کہ وہ کھل کر پاکستان کی مذمت کریں تو انور ابراہیم کا کہنا تھا کہ ان کے انٹیلی جنس اداروں یا سکیورٹی اداروں نے انہیں کبھی ایسے شواہد فراہم نہیں کیے جس سے ثابت ہو کہ پاکستان ریاستی سطح پر دہشت گردی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم وہ ہوا میں بات کرنے کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات کرنے کے پابند ہیں۔
اسی طرح ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران پر امریکی اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کرنے والے مذہبی راہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی جس کے بعد ایرانی صدر کسی ہندو پنڈت سے بات کررہے تھے کہ ان ہاتھ سے کچھ گر گیا اور وہ اسے اٹھانے کے لئے جھکے تو بھارتی میڈیا نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ایرانی صدر نے پنڈت کے قدم چھوئے جس پر ایرانی سفارت خانے کو وضاحت جاری کرنا پڑی۔
بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک کے تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی برکس اجلاس میں بھارت کے بھونڈے پن پر تنقید کی گئی ہے۔ عالمی سیاست کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس سفارت کاری کے حوالے سے بھارت کو مستحکم کرنے کے بجائے اس کی جگ ہنسائی کا باعث بنا ہے اور اس کے سفارتی رویے کی بدترین مثال ہے۔
