• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 8:56 شام
  • پاکستان

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے میررضا قتل کیس پر اجلاس میں کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بریفنگ دی

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے میررضا قتل کیس کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ کیس کے حوالے سے 75 افراد کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ہیں لیکن تاحال قتل کا سراغ نہیں لگایا جاسکا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت ہوا، جس میں کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ 28 جولائی کو میر رضا کی موت ہوئی، 29 جولائی کو والد نے رپورٹ کیا، ابتدائی معلومات میں گھاس سے خون، ایک پھول دان اور خون سے بھرا لفافہ ملا، پولیس نے 30 بور پستول کی گولی کا خول بھی برآمد کیا، یکم اگست کو میر رضا کیس پر پہلی انویسٹی گیشن ٹیم بنی، 9 اگست کو دوسری تفتیشی ٹیم بنی۔

سینیٹر قرة العین مری نے کراچی پولیس چیف سے استفسار کیا کہ کیا یہ سچ ہے میر رضا نے موت سے پہلے اپنے بینک اکاؤنٹ خالی کرکے تمام پیسہ والدین کو ٹرانسفر کر دیا تھا؟ کیا یہ بھی سچ ہے میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹ خود بند کر دیے تھے؟ کیا یہ بھی سچ ہے کہ میر رضا عام طور پر اپنی گاڑی پر جاتے تھے اور قتل کے دن آن لائن گاڑی منگوا کر گئے، جس پر کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا یہ سب سچ ہے۔

آزاد خان نے بتایا کہ میر رضا اس دن گھر سے گن بھی لے کر گئے تھے، میر رضا کیس پر میڈیکو لیگل کرنے والے ڈاکٹر نے میڈیا پر جا کر بیان دے دیا، سنیٹر قرةالعین مری نے پوچھا کیا ڈاکٹر سمعیہ نے پولیس کو بیان دینے سے پہلے بیان دے دیا؟ جس پر آزاد خان نے کہا بالکل ڈاکٹر سمعیہ نے ٹی وی پر بیان دے دیا تھا۔

کراچی پولیس چیف نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میر رضا کے 29 جولائی کے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی سامنے سے لگنے کا لکھا گیا جبکہ 8 اگست کی رپورٹ میں گولی پیچھے سے لگنے اور سینے سے نکلنے کا لکھا گیا۔

چیئرپرسن انسانی حقوق کمیٹی نے کہا امید ہے کہ ہم کسی کو یہاں کور نہیں کر رہے، سوشل میڈیا پر آیا کہ میر رضا کو بری طرح ٹارچر کیا گیا تھا، کراچی پولیس چیف نے کہا ہائیڈرو کلورک ایسڈ کے کچھ نشانات میر رضا کی شرٹ پر تھے، ٹارچر کے نشان بھی چہرے پر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ میر رضا 28 جولائی کو3 بج کر42 منٹ پر بہادرآباد سے سیکیورٹی گارڈ سے پستول لے کر نکلے، میر رضا پستول لےکر 3 بج کر 52 منٹ پر گھر واپس پہنچے، انہوں نے گھر سے 3 بج کر57 منٹ پر آن لائن بائیک بک کی، اپنی گاڑی کی چابی،گھڑی،گاڑی اور بٹوا گھر چھوڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میر رضا 4 بج کر 9 منٹ پر وائٹ گاڑی پر گھر سے نکلے، 4 بج کر28 منٹ پر منظور اسٹریٹ گلستان جوہر اترے، ڈرائیور کو پیمنٹ کی، میر رضا 4 بج کر 38 منٹ پر نرسری کی جانب جاتے دکھائی دیے، والدین اس کو قتل قرار دے رہے ہیں لہٰذا قتل کی طرح انویسٹی گیشن ہو رہی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ میر رضا کو جولائی میں ساڑھے 4 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، میر رضا کے دونوں ہاتھوں پر پستول کے نشانات ملے، اب تک پولیس نے 78 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے لیکن کسی سے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی 24 ستمبر کو کراچی میں اجلاس کرے گی، 24 ستمبر کے اجلاس میں میر رضا کیس کی تفتیشی ٹیم کو پیش ہو کر بریفنگ دینے کی ہدایت کر دی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے