مسک کا کہنا تھا کہ وہ 2014 سے بھی پہلے اے آئی سیفٹی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس سے وابستہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کئی سالوں پہلے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ خطرات اور حفاظت کے حوالے سے فکرمند تھے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے نک بوسٹروم کی 2014 میں شائع ہونے والی کتاب ’سوپر انٹیلیجنس‘ میں تعاون کیا تھا اور مصنف نے کتاب کے پیش لفظ میں ان کا نام بھی شامل کیا۔
View this post on Instagram
People keep misunderstanding this. I CONTRIBUTED to Bostrom’s Superintelligence book and he thanks me by name in the foreword. I was thinking about AI safety long before 2014. https://t.co/635Ulwzte9 .related-stories-inner .col-md-2 { width: 100%; max-width: 100%; flex: 0 0 100%; margin-bottom: 12px; } .related-stories h4{ font-size: 25px !important; } .related-stories-items { display: flex; align-items: center; gap: 10px; padding: 8px 0; } .related-str-bx img { width: 100px; height: auto; object-fit: cover; border-radius: 4px; } .related-stories-items p a { font-size: 23px !important; font-style: normal !important; } — Elon Musk (@elonmusk) September 14, 2026
People keep misunderstanding this. I CONTRIBUTED to Bostrom’s Superintelligence book and he thanks me by name in the foreword. I was thinking about AI safety long before 2014. https://t.co/635Ulwzte9
انہوں نے اپنی 12 سال پہلے کی ایک پرانی پوسٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنے پر زور دیا تھا اور اسے ممکنہ طور پر نیوکلئر ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک قرار دیا تھا۔
ایلون مسک کا حالیہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے جدید اے آئی ماڈلز کی تیز رفتار ترقی کو سست کرنے اور حفاظتی اقدامات بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
