• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 9:48 صبح
  • پاکستان

محترمہ مریم نواز صاحبہ پڑھی لکھی بھی ہیں اور بات کرنے کا سلیقہ بھی جانتی ہیں ۔عموماََ تول کر بولتی ہیں لیکن نہ جانے اس روز انہوں نے اپنے صوبے کا تذکرہ کیوں ایسے انداز میں کیا کہ اس پر دہشت گردی کے شکار خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے نہایت سخت ردعمل سامنے آیا۔ ردعمل بالکل فطری تھا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مریم صاحبہ کا بیان نامناسب ہی نہیں بلکہ خلاف ِحقیقت بھی تھا۔

انہوں نے ارشاد فرمایا کہ ان کے صوبے کو پڑوسی ملک (ہندوستان) سے دراندازی کا اتنا خطرہ نہیں جتنا کہ پڑوسی صوبوں سے ہے ۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ چندبرسوں کے دوران ہندوستانی را کے کارندے پاکستان میں ایک درجن سے زائد افراد کوٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناچکے ہیں اور بعض افراد پنجاب میں بھی نشانہ بنا ئے گئے ۔ ان کا آخری شکار مظفر آباد میں کالج کے ایک پرنسپل تھے جنہیں چند ماہ قبل بھرے بازار میں گولی ماری گئی۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ طالبانائزیشن پنجاب سے پختونخوا میں آئی ہے نہ کہ پختونخوا سے پنجاب میں آئی ہے ۔ محترمہ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں کسی ایک نظریے یا ایک پس منظر کے لوگ نہیں بلکہ نائن الیون کے بعد مختلف جہادی تنظیموں سے جو لوگ ٹوٹے ، انہوں نے مل کر ٹی ٹی پی تشکیل دی ۔ ان کو جمع کرنے میں بنیادی کردار القاعدہ اور افغان طالبان نے ادا کیا اور وہ دونوں نہ تو پختونخوا سے تعلق رکھتے تھے اور نہ بلوچستان سے ۔جن تنظیموں سے یہ لوگ ٹوٹے ان میں جیش محمد، لشکرطیبہ ، حرکت الانصار، جماعت اسلامی ، سپاہ صحابہ اور البدر مجاہدین وغیرہ شامل تھے ۔ جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کا تعلق پنجاب سے ہے اور اس تنظیم کا اصل گڑھ بھی پنجاب ہی تھا۔

لشکر طیبہ کا مرکز پنجاب کے مریدکے میں تھا ۔ سپاہ صحابہ کی قیادت بھی پنجاب سے تعلق رکھتی ہے ۔ البدر مجاہدین کے امیر کا تعلق پختونخوا سے ہے لیکن وہ ابتدا میں جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم تھی اور ہر کوئی جانتاہے کہ جماعت اسلامی کا مرکز پنجاب کا منصورہ ہے ۔ اسی طرح حرکۃ الانصار کا مرکز بھی پنجاب میں تھا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خطے میں جہادی کلچر کو فروغ دینے میں کس نے کردار کیا؟تو وہ ہر کوئی جانتا ہے کہ آئی ایس آئی نے کیا ۔ سب سے کلیدی کردار جنرل اختر عبدالرحمان کا تھا ۔ وہ نہ صرف پنجابی تھے بلکہ ان کے بیٹے اب بھی مسلم لیگ (ن) کے وزیر ہیں۔ دوسرے نمبر پر کردار جنرل حمید گل کا تھا اور ان کا خاندان اگرچہ یہ دعویٰ کررہا ہے کہ وہ بنیادی طور پر بونیر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن نہ جانے وہ کتنی نسلوں سے پنجاب میں مقیم تھے اور ان کی تعلیم و تربیت بھی پنجاب میں ہوئی تھی۔ افغان طالبان کے سب سے بڑے حامی کرنل امام اور خالد خواجہ تھے اور ان دونوں کا تعلق بھی پنجاب سے تھا ۔

افغان طالبان کی حمایت میں ان کے پہلے دور سے لے کر دوسرے دور تک ایک اخبار (اسلام) لاکھوں کی تعداد میں شائع اور تقسیم ہوتا تھا اور وہ پختونخوا کے کسی شہر سے شائع نہیں ہوتا تھا۔ جماعت اسلامی نے جب چینی یوغر مسلمانوں کی پہلی کھیپ چین سے منگوائی تو انہیں کہیں اور نہیں بلکہ منصورہ میں ٹھہرایا گیا تھا۔ ٹی ٹی پی کے قیام اور انکے رویے میں شدت لانے میں اہم کردار لال مسجد کے سانحے نے ادا کیا ۔ مولانا عبدالرشید غازی اور مولانا عبدالعزیز کا تعلق پشاور سے نہیں بلکہ پنجاب کے جنوبی اضلاع سے ہے جبکہ ان کیخلاف آپریشن کرنیوالے بھی پختون نہیں تھے۔سب سے اہم بات جسکی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا یہ ہے کہ القاعدہ ، طالبان یا ٹی ٹی پی کے فروغ میں اہم کردار ان کا لٹریچر ادا کرتا ہے اور وہ لٹریچر پشتو زبان میں نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ بیشتر لٹریچر اردو زبان میں دستیاب ہے ۔

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کو اصل فکری غذا القاعدہ کی طرف سے ملتی رہی ۔ خودکش حملوں کا رجحان القاعدہ سے ان کے ہاں در آیا۔پاکستان کے جو لوگ القاعدہ سے منسلک ہوئے ان میں پختون نہ ہونے کے برابر تھے ۔ زیادہ تر پنجاب اور کراچی سے تعلق رکھنے والے تھے ۔القاعدہ کے استاد فدائیں ملک یعقوب اعوان پنجابی تھے ۔ استاد احمد فاروق ،جو کمال کے مقرر تھے ، کا تعلق پختونخوا سے نہیں تھا بلکہ وہ اسلام آباد کے رہنے والے تھے۔ڈاکٹر ارشد وحید اور ڈاکٹر اکمل وحید کراچی کے تھے لیکن یہ سب وزیرستان جاچکےتھے اور وہیں پر ہی زیادہ تر ڈرون حملوں میں مارے گئے۔اسی طرح القاعدہ کے اہم رہنما ابوزبیدہ فیصل آباد سے گرفتار ہوئے جبکہ خالد شیخ محمد جو نائن الیون کے ماسٹرمائنڈ تھے، پنڈی سے گرفتار ہوئے ۔

نائن الیون سے قبل قبائلی علاقوں میں حکومتی رٹ لاہور کے شاہدرہ سے زیادہ مضبوط تھی۔ اجتماعی ذمہ داری کے ظالمانہ نظام کی وجہ سے وہاں کے شہری سرکار کے غلاموں کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔ دراصل جب پاکستان نے افغان طالبان کی سپورٹ کی پالیسی اختیار کی اور ان کیلئے قبائلی علاقوں کو بیس کیمپ بنایا تو اس کی وجہ سے ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی راہ ہموار ہوئی۔ یقیناََ مریم نواز جانتی ہوں گی کہ وہ فیصلے کون کررہے تھے ۔ جس ادارے نے یہ پالیسی اپنائی اس میں سوائے ایک کے باقی سب جنرل صاحبان پنجابی تھے ۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پنجاب سے ٹی ٹی پی کا خاتمہ نہیں کیا گیا بلکہ مریم نواز صاحبہ کے والد صاحب نے ان کے ساتھ ڈیل کی تھی ۔ جب پنجابی طالبان سے یہ ڈیل نہیں ہوئی تھی تو مناواں پولیس اسٹیشن، ایف آئی اے بلڈنگ ، جی ایچ کیو اور پریڈ گرائونڈ جیسے حملے ہورہے تھے۔

پھر پنجابی طالبان کے امیر نے دھمکی دی تھی کہ فیصل آباد جیل میں قید اگر ان کے ساتھیوں کو پھانسی دی گئی تو وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو اے این پی کے ساتھ کیا ۔چنانچہ پھانسی دینے کا عمل موخر کیا گیا اور اس کے بعد میاں نواز شریف کی کوشش سے ان کے ساتھ ڈیل ہوئی ۔ اس لئے پنجاب میں وقتی طور پر خاموشی ہوگئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پنجاب میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پختونخوا کے تقریبا گیارہ اضلاع میں وہ اپنی گرفت اس انداز میں قائم کرچکے ہے کہ رات کے وقت پولیس نہیں نکل سکتی ۔ وہ پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں ۔ پنجاب میں یہ خیال ہے کہ یہ پختونوں کا مسئلہ ہے ۔ وہ جانیں اور ان کا کام جانے لیکن اگر مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو خاکم بدہن وہ بہت جلد پنجاب میں بھی داخل ہوجائیں گے ۔

جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ: نظام کٹہرے میں

ننگشیا ریجن کا میڈیا کلاؤڈ پلیٹ فارم

صوبے یا انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت

صوبے نہیں بن رہے!!

نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس

سپر ایل نینو: پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

حیرتوں والی زمین بیجنگ کا سفر

بدلتا پاکستان، قیادت، خدمت اور عالمی اعتماد کا سفر

صوبے بعد میں پہلے شناخت طے کریں!

’’کشمیر فریب زدہ‘‘

ڈیم نہریں نامنظور، سیلاب تباہی منظور؟

تازہ ترین

• 2 منٹ پہلے مریم نواز کا بیان اور زمینی حقائق

• 2 گھنٹے پہلے لیبیا : تیل کی پیداوار متاثر ،گارڈز نے احتجاجاً خام تیل کی پائپ لائن کا وال بند کر دیا

لیبیا : تیل کی پیداوار متاثر ،گارڈز نے احتجاجاً خام تیل کی پائپ لائن کا وال بند کر دیا

• 4 گھنٹے پہلے مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے حوثیوں کے ڈرون کو تباہ کردیا گیا

مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے حوثیوں کے ڈرون کو تباہ کردیا گیا

• 5 گھنٹے پہلے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پاکستان

سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پاکستان

• 5 گھنٹے پہلے ایران امریکی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کمیٹی کا رکن منتخب

ایران امریکی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جنرل کمیٹی کا رکن منتخب

• 7 گھنٹے پہلے پاکستان سے چرا کر امریکا اسمگل کی گئی 36 نوادرات حکومت پاکستان کو واپس دیدی گئیں

پاکستان سے چرا کر امریکا اسمگل کی گئی 36 نوادرات حکومت پاکستان کو واپس دیدی گئیں

• 8 گھنٹے پہلے سعودی ولی عہد کی مصری صدر سے اہم ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، علاقائی سلامتی پر گفتگو

سعودی ولی عہد کی مصری صدر سے اہم ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، علاقائی سلامتی پر گفتگو

• 8 گھنٹے پہلے سعودی عرب نے پائپ لائن پر عراقی ملیشیا کے ڈرون حملوں کے بعد یورپ کو خام تیل کی سپلائی روک دی

سعودی عرب نے پائپ لائن پر عراقی ملیشیا کے ڈرون حملوں کے بعد یورپ کو خام تیل کی سپلائی روک دی

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے