کمپنی نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ اگر اشتہار کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات کمپنی پر بھی پڑ سکتے ہیں
پان مسالہ کے اشتہار سے جڑے معاملے میں بالی ووڈ اداکاروں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو فوری ریلیف نہیں مل سکا۔
دہلی ہائی کورٹ نے اشتہار سے متعلق کارروائی کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اس معاملے کی سماعت اس عدالت کے علاقائی دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔
درخواست اشتہار سے منسلک کمپنی پی بی ایگرو کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ کمپنی نے مہاراشٹرا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے تینوں اداکاروں کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹسز کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سوارنا کانتا شرما نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نوٹسز سے متعلق اعتراضات کے لیے مہاراشٹرا مناسب فورم ہے۔
پی بی ایگرو کا مؤقف تھا کہ چونکہ کمپنی کا دفتر دہلی میں موجود ہے، اس لیے دہلی ہائی کورٹ اس معاملے کی سماعت کر سکتی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اشتہاری مہم دارالحکومت میں تیار اور منظم ہوئی جبکہ برانڈ ایمبیسیڈرز کو ادائیگیاں بھی دہلی سے کی گئی تھیں۔
تاہم عدالت نے ان دلائل کو کافی نہیں سمجھا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹرا ایف ڈی اے کے نوٹس پی بی ایگرو کو جاری نہیں کیے گئے بلکہ صرف اداکاروں کو بھیجے گئے تھے۔ کمپنی کو نہ جواب جمع کرانے، نہ اشتہار ہٹانے، نہ دستاویزات فراہم کرنے اور نہ ہی حکام کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔
سماعت کے دوران پی بی ایگرو نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ اگر اشتہار کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات کمپنی پر بھی پڑ سکتے ہیں، حالانکہ نوٹس صرف اداکاروں کو دیے گئے ہیں۔ کمپنی نے مہاراشٹرا ایف ڈی اے کے اشتہار روکنے سے متعلق ہدایات جاری کرنے کے اختیار پر بھی سوال اٹھایا۔
دوسری جانب مرکزی حکومت اور مرکزی صارف تحفظ اتھارٹی نے بھی دہلی ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کارروائی مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے شروع کی ہے، اس لیے پی بی ایگرو کو بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔
یہ معاملہ ان اشتہارات سے متعلق ہے جن میں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف برانڈ ایمبیسیڈرز کے طور پر وابستہ رہے ہیں۔ مہاراشٹرا ایف ڈی اے نے الزام عائد کیا تھا کہ ان اشتہارات کے ذریعے ویمل پان مسالے کی تشہیر کی جا رہی تھی۔
تازہ عدالتی حکم کے بعد پی بی ایگرو کی درخواست کو علاقائی دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر دہلی ہائی کورٹ نے قابلِ سماعت نہیں سمجھا، جس کے باعث معاملہ اب متعلقہ مہاراشٹرا فورم میں لے جانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
