• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 11:14 صبح
  • پاکستان

ملک کو نئے صوبوں کی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر احتساب کی ضرورت ہے

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔ کچھ حلقے نئے صوبوں کو انتظامی اور معاشی مسائل کا حل سمجھتے ہیں، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں نئے صوبے سرکاری اخراجات میں مزید اضافہ کریں گے۔ دونوں جانب اپنے اپنے دلائل ہیں، لیکن میرے خیال میں اس بحث کو صرف صوبوں کی تعداد تک محدود رکھنے کے بجائے پاکستان کے مجموعی نظامِ حکمرانی کی اصلاح کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

نئے صوبوں کے حامیوں کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی، جبکہ آج یہ آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے وہی انتظامی ڈھانچہ برقرار رکھنا مؤثر حکمرانی کے لیے کافی نہیں۔ نئے صوبوں کے ذریعے انتظامیہ عوام کے قریب آ سکتی ہے، فیصلوں میں تیزی آسکتی ہے اور ترقیاتی وسائل کی نگرانی بہتر ہو سکتی ہے۔

دوسری اہم دلیل وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ صوبائی وسائل کا بڑا حصہ لاہور اور وسطی پنجاب کے بڑے شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔ اسی طرح اندرونِ سندھ کے بعض علاقوں میں کراچی کے مقابلے میں ترقیاتی محرومی کی شکایات موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں بھی یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل پیدا کرنے کے باوجود ان علاقوں کو ترقی کے مناسب ثمرات نہیں مل رہے۔

اگر نئے صوبے مقامی وسائل، بجٹ اور انتظامیہ کو عوام کے قریب لانے میں کامیاب ہوں تو ان کا قیام قابلِ غور ہونا چاہیے۔ تاہم مخالفین کی تشویش کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں، بجٹ خسارے اور محدود مالی وسائل جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ نئے صوبوں کے قیام سے نئی اسمبلیاں، سیکریٹریٹ، محکمے اور انتظامی ڈھانچے وجود میں آئیں گے، جس سے سرکاری اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر صرف صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور حکمرانی کا بنیادی نظام وہی رہے تو مسائل حل ہونے کے بجائے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کا نظامِ حکمرانی کتنا منصفانہ، جواب دہ اور عوام دوست ہے۔

نئے صوبے بنانا اپنی جگہ ایک اہم معاملہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمارے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ آزادی کے بعد اگرچہ نظام میں کئی تبدیلیاں کی گئیں، لیکن انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے کئی پرانے خدوخال آج بھی موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی اداروں اور انتظامی نظام کو عام شہری کی خدمت کے لیے زیادہ مؤثر، شفاف اور جواب دہ بنایا جائے۔

سول سروس کے نظام میں بھی بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ افسر شاہی کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے عوام، پارلیمان اور قانون کے سامنے زیادہ جواب دہ بنانا ہوگا۔ میرٹ، کارکردگی، شفافیت اور احتساب کو مرکزی حیثیت دینی ہوگی۔ کرپشن کے خلاف صرف نعرے کافی نہیں؛ ایسا نظام درکار ہے جس میں کرپشن کے مواقع کم سے کم ہوں اور سرکاری کارکردگی کو باقاعدگی سے جانچا جا سکے۔

پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ سیاسی نمائندگی بھی ہے۔ عملی طور پر انتخابات میں حصہ لینا عام شہری کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ بڑی مالی طاقت رکھنے والے افراد، بااثر خاندان، جاگیردار اور سیاسی اشرافیہ انتخابی سیاست میں زیادہ آسانی سے آگے آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسمبلیوں میں معاشرے کے عام طبقات کی نمائندگی محدود رہ جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی نظام میں ایسی اصلاحات کی جائیں جن سے ایک قابل، تعلیم یافتہ اور دیانت دار عام شہری بھی مالی وسائل کی کمی کے باعث سیاست سے باہر نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت، انتخابی اخراجات میں شفافیت، امیدواروں کے انتخاب کا بہتر نظام اور ریاستی اداروں کی غیر جانب داری اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا نئے صوبوں کے قیام کی بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن اسے پاکستان کی مجموعی اصلاحات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر نئے صوبے بن بھی جائیں مگر وہی پرانا انتظامی کلچر، کمزور احتساب، سیاسی اجارہ داری، غیر مؤثر بیوروکریسی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم برقرار رہے تو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوام کی زندگی میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، مضبوط مقامی حکومت، منصفانہ وسائل کی تقسیم، مؤثر احتساب اور عام آدمی کی حقیقی سیاسی نمائندگی کی ضرورت ہے۔

اگر نئے صوبے ان اصلاحات کا حصہ بن کر انتظامی کارکردگی، معاشی انصاف اور عوامی سہولت میں بہتری لا سکتے ہیں تو ان کے قیام پر سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ بحث ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف سیاسی مفادات اور طاقت کی نئی تقسیم ہو تو پھر صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے پہلے نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا زیادہ ضروری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے