چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکی جنگجو ہیں تو انھیں ایرانی بہادر فوج کا سامنا کرنا چاہیے، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کے ذخائر کو نشانہ بنا کر جنگ کیوں کی جا رہی ہے؟
مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ اگر وہ انسان ہیں تو لوگوں کو پانی، کھانے اور ادویات سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایرانی صدر نے عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے لوگوں کو دھمکا کر جھکایا نہیں جا سکتا، ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
If Americans are warriors, let them face our valiant military forces. Why wage war on civilian infrastructure, food supplies, and livelihoods? If they’re human, why deny people access to water, food, and medicine? Our people can’t be bullied into submission. Iran won’t surrender. — Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) September 12, 2026
If Americans are warriors, let them face our valiant military forces. Why wage war on civilian infrastructure, food supplies, and livelihoods? If they’re human, why deny people access to water, food, and medicine? Our people can’t be bullied into submission. Iran won’t surrender.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) September 12, 2026
واضح رہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نئی دہلی میں برکس سمٹ میں شرکت کے لیے بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں، وہ جمعہ 11 ستمبر کو نئی دہلی پہنچے تھے، یہ ان کا بہ طور صدر بھارت کا پہلا دورہ ہے، ان سے پہلے ایرانی صدر حسن روحانی نے 2018 میں بھارت کا دورہ کیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود برکس کا مشترکہ اعلامیہ منظور
برکس بزنس فورم سے خطاب میں پزشکیان نے کہا تھا کہ BRICS ممالک کو باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کا استعمال بڑھانا چاہیے، اور اس اقدام کو مؤثر بنانے کے لیے کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے خطرے کو سنبھالنے کے نظام، باہمی ادائیگیوں کے طریقۂ کار، متبادل ادائیگی اور مالیاتی ذرائع بھی قائم کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی مالیاتی نظام چند غالب کرنسیوں پر بہت زیادہ منحصر ہے، اس لیے وہ سیاسی دباؤ، پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کے لیے کمزور ہے۔
انھوں نے نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) کو بھی زیادہ فعال بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ اسے برکس ممالک میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ بننا چاہیے، خصوصاً مقامی کرنسیوں میں قرضے اور ضمانتی مالیاتی آلات فراہم کر کے۔
