جرمنی سمیت یورپ میں غیرمقامی آبادی یا مہاجرین کا ہونا ایک حقیقی سیاسی مسئلہ ہے
جرمنی کو دیکھتے ہوئے کبھی کبھی تاریخ اپنے آپ کو ایک عجیب سوال کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔ وہی جرمنی جس نے نازی فسطائیت کی ہولناکیاں دیکھی تھیں، جس نے جنگ، نسل پرستی اور انسانی تباہی کی وہ قیمت ادا کی، جسے دنیا کبھی بھلا نہیں سکتی، آج ایک مرتبہ پھر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو مضبوط ہوتا دیکھ رہا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ جرمنی کے لوگ اچانک کنزروٹیو ہوگئے ہیں۔ تاریخ کو اس قدر آسانی سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر وہ لوگ جو برسوں سے روایتی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے آئے تھے، اب ان جماعتوں سے منہ موڑ کر دائیں بازو کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں۔
یہ سوال جرمنی سے کہیں بڑا ہے۔ یہ آج یورپ کی سیاست کا بنیادی سوال ہے اور شاید آنے والے برسوں میں دنیا کی سیاست کا بھی۔ دائیں بازو کا عروج ہمیشہ اس وقت نہیں ہوتا جب عوام دائیں بازو کے نظریات کو مکمل طور پر قبول کرلیں۔
کبھی کبھی دائیاں بازو اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب عوام ان جماعتوں سے مایوس ہوجاتے ہیں جن سے وہ اپنے مسائل کے حل کی امید رکھتے تھے۔
جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی یعنی SDP کی تاریخ مزدور تحریک، سماجی انصاف اور فلاحی ریاست سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید یورپی سوشل ڈیموکریسی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ بتدریج نظام کو بدلنے والی قوت کے بجائے نظام کو چلانے والی قوت بن گئی۔
ایک مزدور کے لیے یہ سوال اہم نہیں کہ حکومت کے وزیر کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ اس کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس کی اجرت کتنی ہے، اس کے گھر کا کرایہ کتنا ہے، اس کے بچوں کی تعلیم کا کیا بندوبست ہے، اس کی ملازمت کتنی محفوظ ہے اور مستقبل اس کے لیے کتنا قابلِ اعتماد ہے۔
جب ان سوالوں کے جواب نہیں ملتے تو نظریاتی وابستگی کمزور ہونے لگتی ہے۔ سیاست میں کوئی جگہ زیادہ دیر خالی نہیں رہتی، اگر ترقی پسند اور سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں عوام کی معاشی پریشانیوں کو اپنی سیاست کا مرکزی موضوع نہیں بنائیں گی تو کوئی اور جماعت اس پریشانی کو اپنی زبان دے گی۔
یہی دائیں بازو نے کیا ہے۔ اس نے پیچیدہ مسائل کے آسان جواب پیش کیے۔ بیروزگاری ہے تو مہاجرین کو ذمے دار قرار دو، رہائش کا بحران ہے تو تارکین وطن کو موردِ الزام ٹھہراؤ، معاشی بے یقینی ہے تو عالمی اشرافیہ کو دشمن بناؤ، قومی شناخت کے بارے میں خوف ہے تو باہر سے آنے والوں کو خطرہ قرار دو۔ یہ جوابات حقیقت کی مکمل تصویر نہیں لیکن سیاست میں ہر مرتبہ مکمل تصویر نہیں جیتتی، کبھی کبھی وہ نعرہ جیت جاتا ہے جو عوام کے غصے کو سب سے سادہ الفاظ میں بیان کردے۔
جرمنی سمیت یورپ میں غیرمقامی آبادی یا مہاجرین کا ہونا ایک حقیقی سیاسی مسئلہ ہے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا بھی ترقی پسند سیاست کی غلطی ہوگی لیکن مہاجرت کے مسئلے کو نفرت کا مسئلہ بنا دینا اور اس کے حقیقی انتظامی ومعاشی پہلوؤں پر بات نہ کرنا بھی اتنی ہی بڑی غلطی ہے۔
اگر ایک شہر میں رہائش کم ہے تو سوال ہونا چاہیے کہ حکومت نے سستے گھروں کے لیے کیا کیا؟ اگر اسکولوں پر دباؤ ہے تو سوال ہونا چاہیے کہ تعلیم کے لیے وسائل کیوں نہیں بڑھائے گئے؟ اگر روزگار کے مواقع کم ہیں تو سوال ہونا چاہیے کہ صنعتی پالیسی کیا ہے؟
مہاجرین کو ہر مسئلے کا ذمے دار قرار دینا آسان ہے، یہ سب ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ جرمنی کے مشرقی علاقوں میں دائیں بازو کی مقبولیت کو سمجھنے کے لیے وہاں کی تاریخی اور معاشی صورت حال کو بھی دیکھنا ہوگا۔ جرمنی کے اتحاد کے بعد سیاسی اتحاد تو قائم ہوگیا لیکن مشرقی جرمنی کے بہت سے لوگوں کے لیے معاشی اور سماجی برابری کا احساس اتنی آسانی سے پیدا نہیں ہوا۔
صنعتوں کی بندش، روزگار میں تبدیلی نوجوان نسل کا دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہونا اور بعض علاقوں میں مسلسل محرومی نے ایک ایسی ناراضگی پیدا کی جسے روایتی سیاست ہمیشہ پوری طرح سمجھ نہیں سکی۔
یہ ناراضگی جب سیاسی زبان تلاش کرتی ہے تو احتجاجی ووٹ بن جاتی ہے اور احتجاجی ووٹ ہمیشہ اس جماعت کو نہیں جاتا جس سے ووٹر نظریاتی طور پر متفق ہو۔ کبھی وہ اس جماعت کو جاتا ہے جس کے ذریعے وہ موجودہ سیاسی طبقے کو سزا دینا چاہتا ہے۔
جرمنی کی کہانی کو یورپ کے دوسرے ملکوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ فرانس میں نیشنل ریلی نے قومی شناخت اور معاشی بے چینی کو اپنی سیاست کا حصہ بنایا۔ اٹلی میں جارجیا میلونی کا عروج اس بات کی مثال ہے کہ قوم پرستی اور روایتی اقدار کس طرح معاشی اور سماجی اضطراب کے ساتھ مل سکتی ہیں۔
نیدرلینڈز میں گیرٹ وائلڈرز کی سیاست نے مہاجرین اور شناخت کے سوال کو مرکزی حیثیت دی۔ برطانیہ میں بریگزٹ نے یہ دکھایا کہ روایتی سیاسی اداروں سے عوام کی ناراضگی کس طرح ایک بڑے سیاسی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کا عروج بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب صنعتی علاقوں کے مزدور، متوسط طبقہ اور وہ لوگ جو خود کو عالمی معیشت کے فاتح کے بجائے اس کے متاثرین سمجھتے ہیں، روایتی سیاست سے مایوس ہوجائیں تو وہ ایسے سیاست دان کی طرف جاسکتے ہیں جو انھیں بتاتا ہے کہ ان کے مسائل کی وجہ کوئی مخصوص طبقہ مہاجر عالمی اشرافیہ یا سیاسی ادارہ ہے۔ ان تمام ممالک کو ایک ہی فارمولے سے سمجھنا درست نہیں مگر ایک سوال مشترک ہے، عوام روایتی سیاست سے کیوں دور ہو رہے ہیں۔
ترقی پسند جماعتوں کے لیے سب سے آسان کام یہ ہے کہ وہ دائیں بازو کو فاشسٹ، نسل پرست اور خطرناک کہہ کر اپنی ذمے داری پوری سمجھ لیں۔ یقینا دائیں بازو کے نسل پرستانہ اور آمرانہ رجحانات کی مخالفت ضروری ہے۔ جرمنی کی تاریخ ہمیں اس بارے میں کسی غلط فہمی کی اجازت نہیں دیتی لیکن صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ فلاں جماعت کو ووٹ نہ دو۔
ایک نوجوان جو اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہے، ایک مزدور جو اپنی آمدنی میں اضافہ نہیں دیکھ رہا، ایک خاندان جو مکان کے بڑھتے ہوئے کرائے سے پریشان ہے، اس سے صرف یہ کہنا کہ دائیں بازو خطرناک ہے، اسے مطمئن نہیں کرسکتا۔ اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ ہمیں ووٹ دو تو تمہاری زندگی میں کیا بدلاؤ آئے گا۔
سوشل ڈیموکریسی اگر دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی پرانی شناخت کی طرف لوٹنا ہوگا مگر صرف نعروں کے ساتھ نہیں۔ اسے مزدور کی اجرت کی بات کرنی ہوگی، سستی رہائش کی بات کرنی ہوگی، عوامی صحت اور تعلیم کی بات کرنی ہوگی، دولت کے بڑھتے ہوئے ارتکاز پر سوال اٹھانا ہوگا، نوجوانوں کے مستقبل کی ضمانت دینی ہوگی۔سب سے بڑھ کر اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست صرف منڈی اور سرمایہ کے مفادات کی محافظ نہیں بلکہ عام انسان کی زندگی بہتر بنانے کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے۔
جرمنی میں دائیں بازو کا عروج ہمیں ایک تلخ حقیقت یاد دلاتا ہے، عوام ہمیشہ کسی نظریے کی طرف نہیں جاتے، کبھی وہ اپنی مایوسی کے راستے پر چلتے ہوئے بھی ووٹ دیتے ہیں، اگر بائیں بازو عوام کی مایوسی کو امید میں تبدیل نہیں کرسکتا تو دایاں بازو اسی مایوسی کو خوف میں تبدیل کردے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آج سوال صرف یہ نہیں کہ جرمنی میں دائیں بازو کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ جگہ خالی کیوں ہوئی جہاں کبھی مزدور نوجوان متوسط طبقہ اور محروم انسان اپنے سیاسی مستقبل کو دیکھتا تھا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فسطائیت صرف اس وقت نہیں آتی جب فاشسٹ طاقتور ہوجائیں۔ کبھی کبھی وہ اس وقت راستہ بناتی ہے جب جمہوری اور ترقی پسند قوتیں عوام کے مسائل کا جواب دینے میں ناکام ہوجائیں۔ جرمنی آج ایک سوال پوچھ رہا ہے، یورپ بھی اور شاید پوری دنیا بھی۔ اگر سیاست عوام کو امید نہیں دے گی تو کیا وہ ہمیشہ خوف کے ہاتھوں شکست کھاتی رہے گی۔
