سعودی عرب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی آئل پائپ لائن پر حملہ کرنے والے ڈرون عراق کی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے
عراق کی سکیورٹی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب جنوبی صوبے میسان کے دور دراز علاقے الطیب میں ڈرون لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور لانچرز برآمد کیے ہیں۔
عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملہ کرنے والے ڈرون عراق کی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔
سکیورٹی ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ عراقی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب علاقے میں ڈرون لانچرز تلاش کیے ہیں۔
ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ لانچرز میسان کے انتہائی دور افتادہ علاقے الطیب میں ملے، جبکہ ایک دوسرے سکیورٹی اہلکار نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی اس شکایت کے بعد ہوئی ہے کہ عراق سے آنے والے ڈرونز نے سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں واقع اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سعودی حکام کے مطابق حملے میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور بعض افراد زخمی ہوئے۔
سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن عارضی طور پر بند
سعودی عرب نے حملے کے بعد اپنی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر کی جانب ینبع تک پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس راستے کی خاص اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتا ہے۔
موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے اس پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن پر متعدد ڈرونز سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں انسانی نقصان اور تنصیبات کو مادی نقصان پہنچا۔ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بغداد کو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا موقع دیا جا سکے۔
تاہم سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عراق نے تحقیقات اور کارروائی شروع کر دی
سعودی عرب کے الزامات کے بعد عراقی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں عراقی حکام نے سکیورٹی آپریشن مزید وسیع کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق عراق نے ایران کے ساتھ شلمچہ سرحدی گزرگاہ بھی احتیاطی اقدام کے طور پر بند کر دی ہے۔
دو سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب پر تازہ ڈرون حملوں کے بعد مشتبہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔
عراقی حکومت پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ اس کی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
سعودی عرب نے بھی بغداد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب کے خلاف حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہونے سے روکے۔
میسان میں فوجی کمانڈر کی برطرفی
اس معاملے میں عراق نے ایک اہم انتظامی قدم بھی اٹھایا ہے۔ عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق میسان صوبے میں آپریشنز کے ذمہ دار ایک فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ اقدام اس تحقیقات کے دوران سامنے آیا جس میں سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کا تعلق عراقی علاقے سے جوڑا گیا۔ عراقی حکومت نے تحقیقات جاری رکھنے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
اس معاملے نے عراق میں سرگرم مسلح گروہوں پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ سعودی حکام ماضی میں ایسے حملوں کے لیے عراقی مسلح گروہوں کو ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔
تاہم کسی مخصوص گروہ کو موجودہ حملے کا حتمی ذمہ دار قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے۔
عراقی تحقیقات مکمل ہونے تک ڈرون لانچرز کی دریافت اور سعودی پائپ لائن پر حملے کے درمیان براہ راست تعلق کے بارے میں مزید شواہد درکار ہوں گے۔
اس سے قبل جولائی میں بھی سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی مسلح گروہوں کے ڈرون سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔
عراق نے اس وقت بھی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ عراقی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
خلیجی ممالک کی تشویش میں اضافہ
سعودی آئل پائپ لائن پر حملے کے بعد خلیج تعاون کونسل نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کونسل نے حملے کو سعودی عرب کی سلامتی اور اہم تنصیبات کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایسے حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی ایران، سعودی عرب، امریکہ اور ایران نواز مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی انتہائی بلند ہے۔
یمن میں حوثی گروپ کی سرگرمیوں اور بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستوں کو لاحق خطرات نے بھی خطے کی توانائی اور عالمی تجارت کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
عالمی تیل منڈی کے لیے خطرے کی گھنٹی
ماہرین کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور متبادل برآمدی راستے مسلسل حملوں کی زد میں رہے تو عالمی تیل سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہ خلیج فارس کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کا موقع دیتی ہے۔
اس پر حملہ اور عارضی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی توانائی منڈی پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے دباؤ میں ہے۔
