سلمان خان نے ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسرز کے خلاف فلم کی تیاری، تشہیر اور ریلیز رکوانے کے لیے مقدمہ دائر کر رکھا ہے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان سے متعلق متنازع فلم ’کالا ہرن‘ کی ریلیز کا معاملہ ایک بار پھر عدالت پہنچ گیا، جہاں دہلی ہائی کورٹ نے فلم کو فی الحال سنیما گھروں میں نمائش سے روک دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت میں گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب تک سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن یعنی سی بی ایف سی کی جانب سے فلم کی منظوری کا معاملہ زیر التوا ہے، اسے سنیما گھروں میں ریلیز نہیں کیا جاسکتا۔
’کالا ہرن‘ ایک کرائم تھرلر اور ڈرامہ فلم ہے جس کی کہانی 1998 میں راجستھان میں پیش آنے والے کالے ہرن کے شکار کے واقعے سے متاثر ہے۔ اس مقدمے میں سلمان خان کا نام بھی سامنے آیا تھا، جبکہ کالے ہرن کو بشنوئی برادری مقدس حیثیت دیتی ہے۔ واقعے کے بعد یہ معاملہ طویل قانونی تنازعات کا باعث بنا۔
سلمان خان کی قانونی ٹیم کے وکیل پراگ کھنڈھر کے مطابق فلم کو اگلی سماعت تک نہ سنیما گھروں میں دکھایا جاسکے گا اور نہ ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کیا جاسکے گا۔ عدالت نے تمام فریقین کو آئندہ سماعت سے قبل اپنے جوابات جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
کیس کی اگلی سماعت 30 ستمبر 2026 کو ہوگی۔ واضح رہے کہ سلمان خان نے ’کالا ہرن‘ کے پروڈیوسرز کے خلاف فلم کی تیاری، تشہیر اور ریلیز رکوانے کے لیے مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔
