• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 2:43 صبح
  • پاکستان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے وزرائے اعلیٰ کے اخراجات پورے نہیں ہوں گے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے وزرائے اعلیٰ کے اخراجات پورے نہیں ہوں گے،یہاں نیویارک، لندن اور استنبول کی مثالیں قابل عمل نہیں ،یہاں تو بیرونی سرمایہ کاری نہیں آ رہی تو نئے وزرائے اعلیٰ، نئے وزرا، نئی ہائیکورٹس کے اخراجات ہی پورے نہیں ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وفاق دو اسپتال نہیں سنبھال سکا اگر وہ چاہیں تو ایک انڈرپاس ایک ماہ میں بنا لیتے ہیں، نہ چاہیں تو آٹھ ماہ میں بھی نہیں بنا پاتے، نئے صوبوں کی تجویز کا حق ملکیت کسی بڑی جماعت نے نہیں لیا، سیاسی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ ملک جیسے تیسے چل رہا ہے، اسے ایسے ہی چلنے دیا جائے۔

ان تجزیہ کاروں نے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ سو فی صد درست ہیں اور مقروض ملک کے موجودہ شاہانہ انداز حکومت میں ان حقائق سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔1970 تک ملک میں دو بڑے صوبے تھے اور الزام لگایا جاتا تھا کہ مشرقی پاکستان کو اہمیت دی جاتی ہے نہ وہاں مالی وسائل اور حقوق دیے جاتے ہیں جوکہ ملک کا بڑا صوبہ ہے، وہاں ترقی تھی نہ عوام کی حالت بہتر تھی جس سے وہاں احساس محرومی بڑھا جس پر توجہ دینے کی بجائے جنرل یحییٰ حکومت میں چھوٹے صوبے مغربی پاکستان کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا ،جس کا نتیجہ عام انتخابات میں سامنے آیا تھا اور حکومت کے رویے سے بے زار مشرقی پاکستان کے عوام نے عوامی لیگ کو اتنی کامیابی دی کہ جس کا کسی کو بھی تصور نہیں تھا مگر عوامی لیگ کی جیت تسلیم نہیں کی گئی تھی جو سب سے بڑے صوبے کے عوام کا متفقہ فیصلہ تھا جب کہ سندھ اور پنجاب کے بڑے صوبوں نے پیپلز پارٹی کے اور صوبہ سرحد اور بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں کے عوام نے نیشنل عوامی پارٹی اور جے یو آئی کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ملک اسی وجہ سے دولخت ہوا تھا جس کے بعد یہاں چاروں صوبوں میں انھی تین پارٹیوں کی حکومت نہیں تھی اور پنجاب سب سے بڑا سندھ دوسرا بڑا صوبہ بنا تھا اور یہی دونوں بڑے صوبے آج بھی موجود ہیں۔ اب یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ پنجاب کے سوا باقی تین صوبوں میں ترقی کیوں نہیں ہو رہی، یہ سوال تو وہاں کے وزرائے اعلیٰ سے پوچھا جانا چاہیے کیونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے امیر ترین اور وفاق مالی طور پر اب صوبوں کا محتاج بنا ہوا ہے۔

حکمران اور اعلیٰ افسران شاہانہ طور پر سرکاری وسائل سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر صوبے میں وزیر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، بڑی بڑی سرکاری رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ اب تو اسسٹنٹ کمشنروں کو بھی کروڑوں روپے کی مہنگی گاڑیاں اور ان کے گھروں میں سرکاری طور ایئرکنڈیشن، مفت کی بجلی، گیس، پانی، فونز اور ملازمین کی فوج میسر ہے۔ ٰ ججز کو جتنی تنخواہیں اور سہولیات سرکاری طور حاصل ہیں دیگر امیر ملکوں کے ججوں کو بھی حاصل نہیں۔ یہاں ایک بار اعلیٰ عہدہ مل جائے یا رکن اسمبلی منتخب ہو کر سابق بھی ہو جائے انھیں بے پناہ سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں اور بعض تو سابق ہو کر بھی سرکاری رہائش گاہیں اور گاڑیاں واپس نہیں کرتے۔ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہیں اور سرکاری مراعات سے فیض یاب ہونے والوں کو عہدوں سے ہٹنے کے بعد بھی جن میں ججز، گورنرز، صدور بھی شامل ہیں سابق ہو کر بھی تاحیات سرکاری سہولیات کے حق دار ٹھہرتے ہیں وہ اپنے دور کی مراعات کا حصول اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسمبلیوں اور پارلیمان کے اجلاسوں سے اکثر غیر حاضر رہنے مگر سرکاری مراعات حاصل کرنے والے سابق ہو کر بھی وی آئی پی ہوتے ہیں اور اپنے خاندان کو سرکاری سہولیات سے فیض یاب کر جاتے ہیں مگر کسی کو اپنے عوام کی فکر نہیں ہوتی۔ راقم نے سندھ کے صحافیوں کے سرکاری دورہ بلوچستان میں گورنر موسیٰ خان سے پوچھا تھا کہ آپ مغربی پاکستان کے گورنر رہنے کے بعد سب سے چھوٹے صوبے بلوچستان کے گورنر کی حیثیت سے کیا محسوس کرتے ہیں تو وسیع و خوبصورت گورنر ہاؤس میں رہنے والے نے جواب دیا تھا کہ میں مطمئن ہوں اور یہاں بھی عوام کی خدمت کر رہا ہوں۔ اس وقت وزیر اعلیٰ جام غلام قادر کا سی ایم ہاؤس بالکل سادہ تھا اور یہی سادگی راقم نے مظفر آباد میں صدر آزاد کشمیر بریگیڈیئر محمد حیات اور ان کے دفتر کی دیکھی تھی۔

اقتدار میں سادگی کا ریکارڈ صرف وزیر اعلیٰ سرحد مولانا مفتی محمود کا تھا جو مسجد میں سرکاری فرائض انجام دیا کرتے تھے جس کی مثال بعد میں جے یو آئی بھی پیش نہیں کر سکی، البتہ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے بھی اقتدار میں سادگی برقرار رکھی تھی اور گھر سے سپریم کورٹ پیدل آنے کی مثال صرف جسٹس فائز عیسیٰ نے قائم کی تھی۔ اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹ واقعی بن گئے تو وہاں کے گورنر، وزرائے اعلیٰ کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے گورنر اور وزرائے اعلیٰ جیسی بڑی رہائش گاہوں، بے شمار گاڑیوں کے پروٹوکول، شاہی حکمرانی اور موجودہ حاصل سرکاری سہولیات، خادمین کی فوج کی مراعات کے طلب گار ہوں گے جو موجودہ کو حاصل ہیں۔ ارکان اسمبلی کو ماہانہ ملنے والے پانچ لاکھ بیس ہزار کی خطیر رقم گزارے کے لیے ناکافی لگتی ہے جب کہ چار سال قبل پی پی کے وفاقی مشیر کو ماہانہ دو لاکھ تنخواہ اور سرکاری مراعات کم لگی تھیں۔ نئے ججز اور اعلیٰ بیورو کریٹس بھی سرکاری عہدیداروں سے زیادہ تنخواہ اور مراعات کا حصول چاہیں گے۔

وزیر اعظم برطانیہ و کینیڈا جیسی سادگی کی مثال اور وزیر اعظم بھارت و نیپال جیسی ایمانداری کی مثال آج تک کوئی پاکستانی وزیر اعظم پیش نہیں کر سکا ہے تو لاتعداد صوبوں کے وزیر کیوں پیچھے رہیں گے اور موجودہ سرکاری مزے اگر موجودہ وزیر اقتدار میں آ کر نہیں مانگیں گے جو سرکاری مراعات کے عادی ہیں تو واقعی نئے صوبوں کے اخراجات مقروض ملک میں کیسے پورے ہوں گے؟

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے