• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 2:18 صبح
  • پاکستان

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر فی الحال بات چیت نہ ہونے کی وضاحت بھی اہم ہے

دنیا کی معیشت کبھی کسی ایک میز پر ہونے والے فیصلے سے نہیں ہلتی، بعض اوقات ایک دور افتادہ سمندری گزرگاہ میں پیدا ہونے والی بے یقینی اس کے پورے مالیاتی نظام میں لہریں پیدا کر دیتی ہے۔ آج آبنائے ہرمز اور باب المندب کے گرد بڑھتی کشیدگی کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

ایک طرف ڈرونز، میزائل اور بندرگاہوں کے کنٹرول کی خبریں ہیں، دوسری طرف خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان دونوں واقعات کو الگ الگ دیکھنا دراصل اس بحران کی اصل نوعیت کو نظرانداز کرنا ہے، کیونکہ جدید دنیا میں جنگ کا ایک سرا میدانِ جنگ میں ہوتا ہے اور دوسرا بازار میں۔ گولی سرحد کے قریب چلتی ہے، مگر اس کی آواز پٹرول پمپ، فیکٹری، بجلی کے بل اور گھریلو بجٹ تک پہنچتی ہے۔

ایران کی جانب سے تیل، گیس اور دیگر پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے غیر ملکی بحری جہازوں پر عائد دس فیصد فریٹ فیس کو عارضی طور پر معطل کرنا بظاہر ایک تجارتی اقدام ہے، لیکن اس کے پیچھے خطے کے بدلتے ہوئے معاشی اور عسکری حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب سمندری راستوں پر خطرات بڑھتے ہیں تو جہازرانی کی لاگت صرف فاصلے سے نہیں بلکہ انشورنس، حفاظتی انتظامات، اضافی ایندھن اور ممکنہ تاخیر سے بھی بڑھتی ہے۔ ایسے میں فریٹ فیس میں رعایت تجارتی سرگرمی کو سہارا دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بھی کہ توانائی کی ترسیل کو مسلسل جاری رکھنا تمام فریقوں کی مشترکہ ضرورت ہے۔

یمن کی صورت حال نے اس خطرے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے تعز، الحدیدہ، الجوف اور مارب میں تقریباً چالیس فضائی حملوں کے دعوے، جب کہ یمنی حکام کے مطابق مخا بندرگاہ پر قبضہ اور باب المندب کی طرف پیش قدمی، محض مقامی لڑائی کی اطلاعات نہیں۔ زُقر، پریم اور حنیس جزائر کے حوالے سے سامنے آنے والی خبریں بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بحری جغرافیہ اب اس تنازعے میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے، اگر کسی فریق کو بندرگاہوں، جزائر یا اہم بحری راستوں کے قریب موثر عسکری موجودگی حاصل ہو جائے تو وہ اپنی سیاسی قوت کو جغرافیائی اثر و رسوخ میں تبدیل کر سکتا ہے۔

حوثیوں کا یہ موقف اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہازرانی اور بین الاقوامی تجارت محفوظ اور معمول کے مطابق جاری ہے، تاہم عالمی تجارت محض سرکاری یا جنگجو گروہوں کے بیانات پر نہیں چلتی۔ جہازرانی کمپنیاں خطرے کو انشورنس نرخوں، روٹ کی تبدیلی، اضافی حفاظتی اقدامات اور ممکنہ تاخیر کے ذریعے جانچتی ہیں۔ ایک سمندری راستے پر حملہ نہ بھی ہو، صرف حملے کے امکان میں اضافہ بھی اس راستے کی تجارتی لاگت بڑھا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے حقیقی معاشی اثرات کبھی کبھی گولی چلنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔

پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک نہایت حساس مقام پر کھڑا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تاریخی، دفاعی، مذہبی اور معاشی تعلقات ایسے ہیں کہ ریاض کی سلامتی کے بارے میں غیر واضح موقف اختیار کرنا آسان نہیں۔ اسلام آباد نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ یہ سفارتی طور پر قابلِ فہم موقف ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں ہونی چاہیے کہ یمن کا تنازعہ کسی وسیع تر جنگ میں تبدیل ہوا تو اس کے اثرات پاکستان کی سلامتی اور معیشت دونوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی پر فی الحال بات چیت نہ ہونے کی وضاحت بھی اہم ہے۔ دفاعی تعاون کا وجود اپنی جگہ، لیکن ہر بحران میں براہِ راست عسکری مداخلت لازم نہیں ہوتی۔ پاکستان کو ایسے کسی فیصلے میں قومی مفاد، علاقائی استحکام اور اپنی معاشی استعداد کو بنیادی پیمانہ بنانا ہوگا۔ کسی دوست ملک کی حفاظت کے عزم اور کسی جنگ میں عملی طور پر شامل ہونے کے درمیان ایک وسیع سفارتی فاصلہ موجود ہوتا ہے۔ دانش مندی اسی فاصلے کو سمجھنے میں ہے۔ اس بحران کا پاکستان پر سب سے فوری اثر توانائی کے شعبے میں پڑ سکتا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 107.31 ڈالر فی بیرل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 101 ڈالر سے تجاوز کرنا محض عالمی بازار کا اتار چڑھاؤ نہیں۔ پاکستان جیسی درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے بلند عالمی قیمتیں درآمدی بل بڑھاتی، روپے پر دباؤ ڈالتی اور مہنگائی کے نئے دور کا امکان پیدا کرتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے، بجلی اور ایندھن کی لاگت بڑھے تو صنعت کی پیداواری قیمت بڑھتی ہے اور صنعتی لاگت میں اضافہ بالآخر صارف تک منتقل ہوتا ہے۔

مسئلہ صرف تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہے گا، اگر آبنائے ہرمز یا باب المندب میں خطرات برقرار رہتے ہیں تو ٹینکرز کے کرائے، انشورنس اور توانائی کی ترسیل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔ عالمی سطح پر مرکزی بینک مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود بلند رکھنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کم، قرض مہنگا اور معاشی نمو سست ہو سکتی ہے، یوں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا ایک غیر مرئی راستہ عالمی مالیاتی نظام تک جاتا ہے، جہاں اس کا اثر اسٹاک مارکیٹ، شرح سود اور روزگار کے امکانات تک پھیل سکتا ہے۔

پاکستان کو اس ممکنہ دباؤ کے لیے محض بحران آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ تیل کے ذخائر، ایل این جی کی دستیابی، بجلی پیدا کرنے کے ایندھن، درآمدی معاہدوں، شپنگ انشورنس اور زرمبادلہ کی ضروریات کا فوری جائزہ ضروری ہے، اگر قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو عمومی سبسڈی قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈال سکتی ہے، اس کے بجائے کم آمدنی والے طبقوں کے لیے ہدفی مالی تحفظ زیادہ موثر راستہ ہوگا۔ توانائی کی بچت، متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار بڑھانے کی پالیسی کو بھی ہنگامی منصوبے کے بجائے مستقل قومی حکمت عملی بنانا ہوگا۔

پاکستان کی خلیجی دنیا سے وابستگی صرف دفاعی یا سفارتی نہیں بلکہ براہِ راست معاشی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہر سال 40 سے 50 ہزار پاکستانیوں کو ویزے اور روزگار ملنا اس تعلق کی ایک واضح مثال ہے۔ خلیج میں کام کرنے والے پاکستانی لاکھوں خاندانوں کے معاشی سہارا ہیں اور ان کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں، اگر علاقائی کشیدگی وسیع ہوئی تو روزگار، تجارت، سرمایہ کاری اور ترسیلات سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کو علاقائی بحرانوں میں اقتصادی سفارت کاری کو دفاعی سفارت کاری کے برابر اہمیت دینا ہوگی۔

داخلی سطح پر بھی ذمے دارانہ طرزِ گفتگو ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے صوبوں کے کردار پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کی دفتر خارجہ کی وضاحت اس امر کی یاد دہانی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی الزام تراشی سے الگ رکھنا چاہیے۔

ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے عناصر اگر سرحدی راستوں سے ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اس مسئلے کا حل صوبائی تنازع پیدا کرنا نہیں بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی اور مشترکہ حکمت عملی ہے۔ بیرونی خطرے کے مقابلے میں داخلی تقسیم کسی بھی ریاست کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔ بیرون ملک روزگار سے وابستہ پاکستانی خاندان افواہوں سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کو خلیجی ممالک سے متعلق ویزوں، روزگار اور سفری پالیسیوں کے بارے میں مستند معلومات فوری طور پر فراہم کرنی چاہییں۔

موجودہ بحران کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آج جنگ کی سرحدیں جغرافیے سے کہیں آگے پھیل چکی ہیں۔ ہرمز میں ایک واقعہ اور باب المندب میں ایک خطرہ ہزاروں میل دور بیٹھے معاشروں کے لیے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم پر قائم رہتے ہوئے بڑی دانشمندی سے فیصلے کرنے ہوں گے، یمن میں سیاسی حل کی حمایت اور اپنی معیشت کو مہنگی توانائی کے ممکنہ طویل بحران کے لیے تیار رکھنا ہوگا۔ اس وقت اصل کامیابی کسی نئے محاذ پر برتری حاصل کرنا نہیں، بلکہ موجودہ محاذوں کو پھیلنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایک ایسی دنیا میں جہاں سمندر کی ایک تنگ گزرگاہ عالمی معیشت کی نبض بن چکی ہو، امن اب محض سفارتی خواہش نہیں رہا، یہ اقتصادی بقا کی بنیادی شرط ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے