پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کو اگر صرف میزائلوں کی گھن گرج سے سنا جائے تو اصل خطرہ شاید سنائی ہی نہ دے۔ اس جنگ کی سب سے فیصلہ کن آواز دراصل ان بندرگاہوں، آئل ٹرمینلز، انشورنس مارکیٹوں اور عالمی منڈیوں سے آ رہی ہے جہاں خوف خود ایک معاشی قوت بن چکا ہے۔
آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن میں دوبارہ بھڑکتا ہوا محاذ اب ایک دوسرے سے الگ واقعات نہیں رہے، دونوں مل کر عالمی توانائی کے نظام کے لیے ایسا دباؤ پیدا کر رہے ہیں جس کے اثرات جنگ زدہ خطے سے ہزاروں میل دور تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ہرمز کے قریب بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے ایرانی دعوؤں، امریکی تردید، سعودی جوابی کارروائیوں اور حوثیوں کی سرگرمیوں نے عالمی منڈی کو مزید بے یقینی میں مبتلا کیا ہے، جب کہ برینٹ خام تیل دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا پہنچا ہے۔
یہ بحران اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں کسی ایک واقعے کو الگ تھلگ دیکھنا ممکن نہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں اور حوثیوں کی طرف سے سعودی شہروں، فوجی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا دراصل ایک ایسے محاذ کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے جسے کچھ عرصہ نسبتاً خاموش سمجھا جا رہا تھا۔ دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم نے خلیج کے سمندری راستوں کو میدانِ جنگ بنا دیا ہے۔ اس امتزاج کی خطرناکی یہ ہے کہ ایک طرف آبنائے ہرمز اور دوسری طرف باب المندب، دونوں اہم بحری گزرگاہیں بیک وقت دباؤ میں آ سکتی ہیں۔
یوں عالمی تجارت کو صرف ایک راستے کی بندش کا نہیں بلکہ دو مختلف سمتوں سے پیدا ہونے والی رکاوٹ کا سامنا ہوگا۔ حالیہ رپورٹس بھی خبردار کر رہی ہیں کہ حوثیوں کی پیش قدمی بحیرہ احمر اور باب المندب کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران نے کتنے جہازوں کو نشانہ بنایا یا امریکا نے کتنے اہداف پر حملہ کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ فریقین کس مقام پر یہ محسوس کریں گے کہ مزید ایک قدم آگے بڑھنا ان کے اپنے مفادات کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔
جنگوں میں اکثر تباہی کسی ایک بڑے فیصلے سے نہیں آتی بلکہ چھوٹے چھوٹے جوابی اقدامات کے جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک میزائل کے جواب میں دو میزائل، دو کے جواب میں بیس، ایک حملے کے جواب میں بحری ناکہ بندی، اور پھر ناکہ بندی کے جواب میں تجارتی جہازوں کو خطرہ۔یہ سلسلہ اگر سیاسی عقل سے نہ روکا جائے تو بالآخر وہ مقام آتا ہے جہاں فریقین جنگ شروع کرنے کے بجائے جنگ کو جاری رکھنے پر مجبور دکھائی دینے لگتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے یہ دھمکی کہ دشمن دو یا تین اہداف کو نشانہ بنائے گا تو ایران بیس اہداف کو نشانہ بنائے گا، اسی نفسیات کی علامت ہے۔ اس طرزِ فکر میں عسکری طاقت صرف دفاع کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ دشمن کو مسلسل بلند تر قیمت چکانے پر مجبور کرنے کا آلہ بن جاتی ہے، مگر جدید عالمی معیشت میں اس قیمت کا ایک بڑا حصہ حملہ آور اور دفاع کرنے والے فریقوں کے بجائے تیسرے ممالک اور عام صارفین ادا کرتے ہیں۔ ایک ٹینکر کا راستہ بدلتا ہے تو صرف اس جہاز کا سفر طویل نہیں ہوتا، پورے تجارتی نظام میں وقت، بیمہ، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت بڑھتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ محض بازار کا معمولی اتار چڑھاؤ نہیں۔ برینٹ کے 100 ڈالر سے اوپر جانے اور دیگر خام تیل کے نرخوں میں تیزی عالمی منڈی کے اس خوف کو ظاہر کرتی ہے کہ سپلائی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے کا اثر سب سے پہلے پٹرول کے نرخ پر دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بعد ایک طویل معاشی زنجیر حرکت میں آتی ہے۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی ہیں اور حکومتوں پر سبسڈی یا عوامی ریلیف دینے کا دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بعد مرکزی بینکوں کے سامنے ایک اور مشکل کھڑی ہوتی ہے۔ مہنگائی کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود بلند کی جائے یا معاشی نمو کو سہارا دینے کے لیے مالی حالات نرم رکھے جائیں۔
پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ ہمارے ہاں عالمی تیل کی قیمت میں اضافہ محض پٹرول پمپ پر ایک نئے نرخ نامے کی شکل میں نہیں آتا۔ اس کے ساتھ درآمدی بل بڑھتا ہے، زرمبادلہ پر دباؤ پڑتا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ کے توازن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اور مہنگائی کی نئی لہر کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، اگر ساتھ ہی بحری نقل و حمل اور انشورنس کی لاگت بڑھ جائے تو درآمدی خام مال سے لے کر تیار شدہ مصنوعات تک ہر چیز متاثر ہوسکتی ہے۔
ایسے ماحول میں پہلے سے کمزور قوتِ خرید رکھنے والے شہری کے لیے عالمی جغرافیائی سیاست براہِ راست گھریلو بجٹ کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہوسکتی ہے اور تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی، سیاسی امید ضرور پیدا کرتا ہے، مگر جنگوں کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ انتخابی تاریخیں میزائلوں کی رفتار نہیں بدل سکتیں اور سیاسی ضرورت ہمیشہ فوجی حقیقت پر غالب نہیں آتی۔ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر سے طویل جنگ کے امکان کے بارے میں تشویش سامنے آ رہی ہے، اگر واشنگٹن کے اعلیٰ مشیر یہ سمجھتے ہیں کہ تنازع موجودہ صدارتی مدت کے اختتام تک جاری رہ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فیصلہ ساز بھی فوری اور آسان اختتام کے بارے میں مکمل طور پر پُراعتماد نہیں۔
یہ تضاد امریکی حکمتِ عملی کی بنیادی مشکل کو ظاہر کرتا ہے۔ واشنگٹن ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ بڑھا سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے علاقائی ردعمل کو مکمل طور پر قابو نہیں کر سکتا۔ عراق، اردن، یمن، سعودی عرب، لبنان اور خلیجی سمندری راستے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کسی ایک محاذ پر دباؤ بڑھانے سے دوسرے محاذ پر ردعمل پیدا ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدود جنگ اور وسیع جنگ کے درمیان لکیر مسلسل دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ ایران بھی ایک پیچیدہ انتخاب کے سامنے ہے۔ تہران کے لیے خاموشی اختیار کرنا داخلی اور علاقائی سطح پر کمزوری کی علامت بن سکتا ہے، مگر مسلسل تصادم اس کی معیشت، توانائی کی برآمدات اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسی لیے ایران کی حکمت عملی میں براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے دباؤ نظر آتے ہیں۔ امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنا واشنگٹن کو قیمت کا احساس دلاتا ہے، جب کہ یمن، عراق یا دوسرے علاقائی محاذوں پر سرگرمی تنازع کو ایک وسیع جغرافیے میں تقسیم کر دیتی ہے، لیکن یہی پھیلاؤ بالآخر تہران کے لیے بھی خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ ایک سے زیادہ محاذوں کی طویل جنگ وسائل اور سیاسی گنجائش دونوں کو کھا جاتی ہے۔
سعودی عرب کے لیے معاملہ اس سے مختلف مگر کم سنگین نہیں۔ ریاض نے گزشتہ برسوں میں اپنی توجہ معاشی تبدیلی، سرمایہ کاری اور طویل المدت ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز کی ہے۔ دوبارہ کھلتا ہوا یمنی محاذ اس معاشی تصور کے لیے ایک غیر ضروری بوجھ ہے، اگر حوثی حملے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل متاثر کرتے رہے تو سرمایہ کاروں کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ہوگا کہ بڑے منصوبوں کے لیے مطلوبہ استحکام کہاں ہے۔ حالیہ حملوں میں سعودی توانائی کے مقامات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات نے اسی خطرے کو نمایاں کیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس مرحلے پر سب سے اہم ضرورت فعال اور متوازن سفارت کاری ہے۔ اسلام آباد کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، امریکا کے ساتھ بھی اہم مفادات وابستہ ہیں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کا معاشی بوجھ پاکستان براہِ راست محسوس کرسکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو محض جنگ بندی کی عمومی اپیلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطے، سمندری راستوں کے تحفظ، توانائی کی مسلسل فراہمی اور سیاسی مذاکرات کے لیے ہر ممکن سفارتی گنجائش پیدا کرنی چاہیے۔ کسی ایک فریق کا ترجمان بننے کے بجائے کشیدگی کم کرنے والا فریق بننا زیادہ دانش مندانہ راستہ ہوگا۔ اب فیصلہ میزائلوں کی تعداد سے نہیں، سیاسی بصیرت کی مقدار سے ہوگا۔
امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوجی برتری لازماً سیاسی کامیابی نہیں ہوتی، یہ ادراک کرنا ہوگا کہ ہر جوابی حملہ مذاکرات کی گنجائش کم کرسکتا ہے، یمن میں پائیدار سیاسی حل کی ضرورت کو عسکری ردعمل پر ترجیح دینا ہوگی اور خطے کے دوسرے ممالک کو بھی یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ آگ کے گرد تماشائی بن کر کھڑے رہیں گے یا اسے پھیلنے سے روکنے میں کردار ادا کریں گے، کیونکہ اس جنگ کا سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ کون کس کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، اصل خطرہ یہ ہے کہ ایک دن سب فریق نقصان کو روکنے کی خواہش تو رکھیں، مگر کسی کے پاس واپسی کا محفوظ راستہ باقی نہ رہے۔
