• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 12:02 صبح
  • پاکستان

حکومت ہمارے مارچ میں انتشاری شامل کرسکتی ہے، ہمیں اسلام آباد پہنچنے میں چار دن بھی لگ سکتے ہیں، شفیع جان

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور 27 ستمبر کیلیے ہماری تمام تیاریاں مکمل ہیں، مارچ کی قیادت وزیراعلیٰ کریں گے۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا کہ لانگ مارچ کے لیے ہماری تمام تر تیاریاں مکمل ہیں،27 ستمبر کی تاریخ حتمی ہے، سفر کا انتظام ہو چکا ہے پر امن طور پر ہم نے 27 ستمبر کی صبح نکلنا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں لانگ مارچ میں شامل ہوں گے، لانگ مارچ کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں جبکہ مالی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ ہمیں اسلام آباد پہنچنے میں 4 دن بھی لگ سکتے ہیں، وزیر اعلیٰ ہی اس لانگ مارچ کے سپہ سالار ہیں، وہ ہی فیصلہ کریں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل اسلام آباد کی حدود تک ہوسکتا ہے، عدلیہ کا احترام ہے لیکن عدلیہ سے ہمارا بھی سوال ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقات سے متعلق عدالت نے 20 سے زائد حکمنامے جاری کیے،لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلوں پر عمل نہیں ہوا۔

شفیع اللہ جان نے مزید کہا کہ عدالت نے بانی اور بشری بی بی سے متعلق جو فیصلے دیے اس پر بھی عمل درآمد کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسلام آباد میں کنٹینرز کھڑے کر دیے ہیں، عدالت سے درخواست ہے کہ اس کا بھی نوٹس لیں۔

شفیع اللہ جان نے کہا کہ ہم نے کبھی گولی نہیں چلائی ، حکومت کی سائیڈ سے ایسا ہوتا ہے، ہماری سائیڈ سے کبھی ایسا نہیں ہوا، ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں رہا، ہم نے سارے راستے اپنا لیے، ہماری کوئی سنوائی نہیں ہوئی، اسی لیے احتجاج کر رہے ہیں، آئین اور قانون ہمیں پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے۔

وزیر اطلاعات کے پی شفیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ تحریک انصاف کو نشانہ بنایا جائے، بانی کو طبی سہولت نہیں مل رہی، خاندان سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، آئین نے اجازت دی کہ پر امن احتجاج کیا جا سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت والے کسی انتشاری ٹولے کو ہمارے لانگ مارچ میں شامل کر سکتے ہیں، لیکن اس حوالےسے ہم نظر رکھیں گے۔

کوہاٹ میں ہونے والے دہشت گردی واقعے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شفیع جان نے شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا اورکہا کہ جیسے ہی علاقہ کلیئر ہو گا تو شاید شہادتوں کی تعداد بڑھ جائے، ہم شہیدوں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جتنے شہید ہوئے ان کو شہدا پیکج بھی دیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کے حوالےسے پہلے سے الرٹ تھا اس سے پہلے کوہاٹ میں اتنا بڑا حملہ نہیں ہوا۔

وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے، واقعے کے بعداسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، کے پی حکومت ، پولیس اور عوام دہشت گردی کیخلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے