• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 11:06 شام
  • پاکستان

ملزم نے 2012 سے 2026 کے عرصے میں اہلیہ اور والد کے درمیان 5 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 1103 ٹرانزیکشنز ہوئیں

کراچی: یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کی اہم تفصیلات منظرعام پر آگئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف آئی اے کمرشل بینکس سرکل کے درج مقدمے کے مطابق ملزم نے مختلف سرکاری آسامیوں پر تعیناتی کے دوران مبینہ طور پر سرکاری اکاؤنٹس سے بھاری مالیت کی رقوم غیر قانونی طور پر اپنے اور دیگر افراد کے اکاؤنٹس میں منتقل کیں۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ضمیر عباسی نے اپنے نام کے علاوہ والد، اہلیہ اور دیگر مبینہ فرنٹ مین کے نام پر بے نامی اکاؤنٹس بھی کھولے، جنہیں مبینہ طور پر رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کیا گیا۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے دوران 2012 سے 2026 کے عرصے میں ملزم کی اہلیہ اور والد کے درمیان 5 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 1103 کرنسی ٹرانزیکشنز کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے ایک انشورنس کمپنی کی 7 لائف انشورنس پالیسیوں کے لیے 8 سال تک سالانہ ساڑھے 3 کروڑ روپے سے زائد کا پریمیئم بھی ادا کیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بدعنوانی سے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی رقم مبینہ طور پر غیر قانونی حوالہ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئی۔ ملزم نے بیرون ملک منتقل کی گئی رقم کے استعمال کے حوالے سے مختلف ممالک کے 24 دورے بھی کیے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ان دوروں میں متحدہ عرب امارات کے 7، سعودی عرب کے 9، تھائی لینڈ کے 2، ترکی کے 2، جبکہ مالدیپ، ملائیشیا، سنگاپور اور امریکا کا ایک ایک دورہ شامل ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق انکوائری کے دوران ملزم کو بھاری رقوم کی منتقلی سے متعلق منی ٹریل فراہم کرنے کے متعدد مواقع دیے گئے، تاہم وہ انکوائری میں شامل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ ضمیر عباسی یلو لائن پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے 8 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کے الزام میں اینٹی کرپشن کے مقدمے میں عدالت سے ضمانت پر ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے