• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 2:44 صبح
  • پاکستان

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں گھڑیوں کا وقت مستقل طور پر ایک گھنٹہ آگے رکھنے کی کوشش فی الحال سینیٹ میں تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔

سینیٹ نے رواں ہفتے کا کام مکمل کرلیا اور 3 نومبر کے کانگریسی انتخابات سے قبل بل پر ووٹنگ کا کوئی شیڈول نہیں رکھا گیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت امریکا میں ہر سال دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت آگے اور پیچھے کرنے کا موجودہ نظام ختم ہوجائے گا اور 2027 سے گھڑیاں دوبارہ معیاری وقت (اسٹینڈرڈ ٹائم ) پر واپس نہیں لائی جائیں گی۔

یہ بل جولائی میں امریکی ایوان نمائندگان سے 308 کے مقابلے میں 117 ووٹوں سے منظور ہوچکا ہے، تاہم اسے قانون بننے کے لیے سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہے۔

ٹرمپ نے سینیٹ سے بل منظور کرنے کا مطالبہ کردیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی صبح ایک بار پھر سینیٹ پر زور دیا کہ وہ بل کی منظوری دے، ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ سال میں دو بار گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنے سے ملک کو بھاری نقصان ہوتا ہے اور یہ جرائم، عوامی ذہنی دباؤ، کھیلوں اور دیگر معاملات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

امریکی سینیٹ نے اس ہفتے اپنا کام مکمل کرکے 3 نومبر کے انتخابات تک وقفہ لے لیا ہے، جس کے باعث بل پر فوری ووٹنگ کا امکان نہیں ہے۔

امریکا میں موجودہ نظام کے مطابق اس سال یکم نومبر کو گھڑیاں دوبارہ ایک گھنٹہ پیچھے کرکے معیاری وقت نافذ کیا جائے گا۔

مستقل ایک گھنٹہ آگے رکھنے کے حامی اور مخالف کیا کہتے ہیں؟

مجوزہ قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سال میں دو مرتبہ گھڑیوں کا وقت تبدیل کرنے سے لوگوں کی نیند متاثر ہوتی ہے، کام کی جگہ پر حادثات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور سڑکوں پر حادثات کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کے نتیجے میں سردیوں کی صبحیں مزید تاریک ہوجائیں گی۔ اس صورتحال میں بچوں کو اسکول جاتے، ملازمین کو کام پر پہنچتے، تعمیراتی کارکنوں اور کسانوں کو کام شروع کرتے وقت سورج کی روشنی دستیاب نہیں ہوگی۔

امریکا میں پہلے بھی مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم آزمایا جاچکا

امریکا میں گھڑیوں کو مستقل طور پر ایک گھنٹہ آگے رکھنے کا تجربہ پہلے بھی کیا جاچکا ہے، دوسری جنگ عظیم کے دوران ملک میں سال بھر ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا گیا تھا۔

1974میں توانائی کی بچت کے مقصد سے ایک بار پھر مستقل ڈے لائٹ سیونگ ٹائم نافذ کیا گیا، تاہم یہ اقدام عوام میں انتہائی غیر مقبول ثابت ہوا اور کانگریس نے اسی سال اسے ختم کردیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے